حدیث نمبر: 17916
عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي جِنَازَةٍ قَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِشَرِّ عِبَادِ اللَّهِ ؟ الْفَظُّ الْمُسْتَكْبِرُ . أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ عِبَادِ اللَّهِ ؟ الضَّعِيفُ الْمُسْتَضْعَفُ ذِي الطِّمْرَيْنِ ، لَا يُؤْبَهُ لَهُ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں شریک تھے آپ نے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں اللہ کے بدترین بندوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ ہر بدمزاج اور متکبر شخص ۔ کیا میں تمہیں اللہ کے بہترین بندوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ ہر کمزور اور کم تر حیثیت کا مالک شخص ، جس کا لباس عام سا ہوتا ہے ، اس کی پرواہ نہیں کی جاتی ، لیکن ( اس کا حال یہ ہوتا ہے ) اگر وہ اللہ کے نام پر قسم اٹھا لے ، تو اللہ تعالیٰ اسے پوری کروا دے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جابر ہے ، جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جابر ہے ، جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 17917
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ وَأَهْلِ الْجَنَّةِ ، أَمَّا أَهْلُ الْجَنَّةِ ؟ فَكُلُّ ضَعِيفٍ مُسْتَضْعَفٍ ذِي طِمْرَيْنِ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ ، وَأَمَّا أَهْلُ النَّارِ فَكُلُّ جَعْظَرِيٍّ جَوَّاظٍ ، جَمَّاعٍ مَنَّاعٍ ذِي تَبَعٍ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ يُعْتَضَدُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” کیا میں تمہیں اہل جہنم اور اہل جنت کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ جہاں تک اہل جنت کا تعلق ہے تو ہر کمزور اور کم تر حیثیت کا مالک شخص ، جس کا لباس عام سا ہو ( اور اس کا حال یہ ہوتا ہے ) اگر وہ اللہ کے نام پر قسم اٹھا لے ، تو اللہ تعالی اسے پوری کروا دے جہاں تک اہل جہنم کا تعلق ہے ، تو ہر موٹا تازہ شخص ( جو مال کو ) بہت زیادہ جمع کرنے والا ہو ( اور اللہ کی راہ میں وہ مال ) نہ دینے والا ہو ، جس کے خادم ہوں ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث مضبوط ہوتی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث مضبوط ہوتی ہے ۔
حدیث نمبر: 17918
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " رُبَّ أَشْعَثَ أَغْبَرَ ، ذِي طِمْرَيْنِ ، مُصَفَّحٍ عَنْ أَبْوَابِ النَّاسِ ، لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى التَّيْمِيُّ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بکھرے ہوئے بالوں والے ، عام سے لباس والے ، جنہیں لوگوں کے دروازوں سے پرے کر دیا جاتا ہو ، ان میں کئی ایسے ہوتے ہیں کہ اگر وہ اللہ کے نام پر قسم اٹھا لے ، تو اللہ تعالیٰ اسے پوری کروا دے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن موسیٰ تیمی ہے ، جس کی توثیق کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن موسیٰ تیمی ہے ، جس کی توثیق کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 17919
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ - رَفَعَهُ - قَالَ : " رُبَّ ذِي طِمْرَيْنِ لَا يُؤْبَهُ لَهُ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ جَارِيَةَ بْنِ هَرَمٍ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” عام سے لباس والا فرد ، جس کی پرواہ نہ کی جاتی ہو ، ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ اگر وہ اللہ کے نام پر قسم اٹھا لے ، تو اللہ تعالیٰ اسے پوری کروا دے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف جاریہ بن ھرم کا معاملہ مختلف ہے اور اس کے ضعیف ہونے کے باوجود ابن حبان نے اس کی توثیق کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف جاریہ بن ھرم کا معاملہ مختلف ہے اور اس کے ضعیف ہونے کے باوجود ابن حبان نے اس کی توثیق کی ہے ۔
حدیث نمبر: 17920
وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ مِنْ أُمَّتِي مَنْ لَوْ جَاءَ أَحَدُكُمْ يَسْأَلُهُ دِينَارًا لَمْ يُعْطِهِ ، وَلَوْ سَأَلَهُ دِرْهَمًا لَمْ يُعْطِهِ ، وَلَوْ سَأَلَهُ فِلْسًا لَمْ يُعْطِهِ ، وَلَوْ سَأَلَ اللَّهَ الْجَنَّةَ أَعْطَاهُ إِيَّاهَا ، ذِي طِمْرَيْنِ لَا يُؤْبَهُ لَهُ ، لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت میں ایسے لوگ بھی ہوں گے کہ اگر ان میں سے کوئی شخص کسی کے پاس جا کر اس سے ایک دینار مانگے ، تو دوسرا شخص اسے نہیں دے گا ، اگر وہ اس سے ایک درہم مانگ لے ، تو دوسرا شخص اسے نہیں دے گا ، اگر وہ اس سے ایک سکہ مانگ لے تو دوسرا شخص اسے نہیں دے گا ، لیکن اگر وہ اللہ تعالٰی سے جنت مانگے ، تو اللہ تعالیٰ وہ اسے عطا کر دے گا ، وہ عام سے لباس والا فرد ہو گا جس کی پرواہ نہیں کی جاتی ہو گی ، لیکن اگر وہ اللہ کے نام پر قسم اٹھا لے ، تو اللہ تعالیٰ اسے پوری کروا دے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 17921
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَعِسَ عَبْدُ الدِّينَارِ ، وَتَعِسَ عَبْدُ الدِّرْهَمِ ، وَتَعِسَ عَبْدُ الْخَمِيصَةِ ، إِنْ أُعْطِيَ رَضِيَ ، وَإِنْ مُنِعَ سَخِطَ ، تَعِسَ وَانْتَكَسَ ، وَإِذَا شِيكَ فَلَا انْتَقَشَ . طُوبَى لِعَبْدٍ آخِذٍ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، أَشْعَثَ رَأْسُهُ مُغْبَرَّةٍ قَدَمَاهُ ، إِنْ كَانَ فِي الْحِرَاسَةِ كَانَ فِي الْحِرَاسَةِ ، وَإِنْ كَانَ فِي السَّاقَةِ كَانَ فِي السَّاقَةِ ، إِنْ شَفَعَ لَمْ يُشَفَّعْ ، وَإِنِ اسْتَأْذَنَ لَمْ يُؤْذَنْ لَهُ " . قُلْتُ : رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ خَلَا مِنْ قَوْلِهِ : " طُوبَى لِعَبْدٍ " . إِلَى آخِرِهِ . فَرَوَاهُ تَعْلِيقًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دینار کا بندہ برباد ہو جائے ، درہم کا بندہ برباد ہو جائے ، چادر کا بندہ برباد ہو جائے کہ اگر اس کو کچھ دے دیا جائے تو وہ راضی ہو جاتا ہے اور اگر نہ دیا جائے تو وہ ناراض ہو جاتا ہے ، وہ برباد ہو جائے اور اوندھا ہو جائے اور اگر اسے کانٹا چبھے تو وہ نہ نکلے ، اور اس بندے کے لئے مبارکباد ہے جو اللہ کی راہ میں جانے کے لیے اپنے گھوڑے کی لگام پکڑتا ہے ، اس کے سر کے بال بکھرے ہوئے ہوتے ہیں ، اس کے پاؤں غبار آلود ہوتے ہیں ، اگر اس نے پہرہ دینا ہو تو پہرہ دیتا ہے ( اس کی ظاہری دنیاوی حالت یہ ہوتی ہے ) اگر وہ سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول نہیں ہوتی ، اگر وہ اندر آنے کی اجازت مانگے تو اسے اجازت نہیں دی جاتی ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام بخاری رحمہ اللہ نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کئے ہیں : ” اس بندے کے لئے مبارکباد ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ یہاں سے لے کر آخر تک کے الفاظ انہوں نے نقل نہیں کئے ہیں ، انہوں نے اس کو تعلیق کے طور پر نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بخاری رحمہ اللہ نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کئے ہیں : ” اس بندے کے لئے مبارکباد ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ یہاں سے لے کر آخر تک کے الفاظ انہوں نے نقل نہیں کئے ہیں ، انہوں نے اس کو تعلیق کے طور پر نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 17922
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ " . قُلْنَا : بَلَى . يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعِّفٍ ذِي طِمْرَيْنِ ، لَا يُؤْبَهُ لَهُ ، لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ . أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ ؟ " . قُلْنَا : بَلَى . يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " كُلُّ جَظٍّ ، جَعْظٍ ، مُسْتَكْبِرٍ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الْجَظُّ ؟ قَالَ : " الضَّخْمُ " . قُلْتُ : فَمَا الْجَعْظُ ؟ قَالَ : " الْعَظِيمُ فِي نَفْسِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ : عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں تمہیں اہل جنت کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ ہم نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر کمزور شخص جو کم تر حیثیت کا مالک ہو ، جس کا لباس عام سا ہو ، جس کی پرواہ نہ کی جاتی ہو ، لیکن اگر وہ اللہ کے نام پر قسم اٹھا لے تو اللہ تعالیٰ اسے پوری کروا دے ، کیا میں تمہیں اہل جہنم کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ ہم نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر ” جظ “ - ” جعظ “ ۔ ” متکبر ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ” جظ “ سے مراد کیا ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : جو بھاری بھرکم ہو ، میں نے دریافت کیا : ” جعظ “ سے مراد کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : جو خود کو بڑا سمجھتا ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ، اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ، اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 17923
وَعَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَا سُرَاقَةُ ، أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَأَهْلِ النَّارِ ؟ " . قُلْتُ : بَلَى . يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " أَمَّا أَهْلُ النَّارِ فَكُلُّ جَعْظَرِيٍّ ، جَوَّاظٍ ، مُسْتَكْبِرٍ ، وَأَمَّا أَهْلُ الْجَنَّةِ فَالضُّعَفَاءُ ، الْمَغْلُوبُونَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے سراقہ ! کیا میں تمہیں اہل جنت اور اہل جہنم کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جہاں تک اہل جہنم کا تعلق ہے ، تو ہر خودپسند ، بدتمیز متکبر شخص ( جہنمی ہو گا ) جہاں تک اہل جنت کا تعلق ہے ، تو کمزور اور مغلوب لوگ ( جنتی ہوں گے ) “ ۔
یہ روایت طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 17924
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا أُنَبِّئُكَ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ " . قُلْتُ : بَلَى . قَالَ : " الضُّعَفَاءُ الْمَغْلُوبُونَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں تمہیں اہل جنت کے بارے میں بتاؤں ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کمزور اور مغلوب لوگ “
یہ روایت طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 17925
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكَ يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ ، بِأَهْلِ النَّارِ ؟ " . قُلْتُ : بَلَى . يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " كُلُّ جَعْظَرِيٍّ ، جَوَّاظٍ ، مُسْتَكْبِرٍ ، جَمَّاعٍ مَنُوعٍ ، أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ كُلُّ مِسْكِينٍ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے ابودرداء ! کیا میں تمہیں اہل جہنم کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا : ہر بدمزاج ، خودپسند متکبر شخص ( جو مال کو جمع کرنے والا ہو ( اور اللہ کی راہ میں ) دینے والا نہ ہو ، کیا میں تمہیں اہل جنت کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ ہر غریب آدمی کہ اگر وہ اللہ کے نام پر قسم اٹھا لے ، تو اللہ تعالی اسے پوری کروا دے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خارجہ بن مصعب ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خارجہ بن مصعب ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 17926
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ " . قَالُوا : بَلَى . يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعِّفٍ ، لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ ، أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ ؟ كُلُّ عُتُلٍّ جَوَّاظٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں تمہیں اہل جنت کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر کمزور ، کم تر حیثیت کا مالک شخص کہ اگر وہ اللہ کے نام پر قسم اٹھا لے ، تو اللہ تعالیٰ اسے پوری کروا دے ، کیا میں تمہیں اہل جہنم کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ ہر بدتمیز ، برائی کی طرف تیزی سے جانے والا شخص ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 17927
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " انْظُرْ أَرْفَعَ رَجُلٍ فِي الْمَسْجِدِ " . قَالَ : فَنَظَرْتُ فَإِذَا رَجُلٌ عَلَيْهِ حُلَّةٌ ، قُلْتُ : هَذَا ، قَالَ لِي : " انْظُرْ أَوْضَعَ رَجُلٍ فِي الْمَسْجِدِ " . قَالَ : فَنَظَرْتُ فَإِذَا رَجُلٌ عَلَيْهِ أَخْلَاقٌ . قُلْتُ : هَذَا ! قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَهَذَا عِنْدَ اللَّهِ أَخْيَرُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ مِلْءِ الْأَرْضِ مِثْلِ هَذَا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الْبَزَّارِ وَالطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” تم اس بات کا جائزہ لو ! کہ مسجد میں سب سے زیادہ نمایاں حیثیت کا فرد کون ہے ؟ ( یعنی جو مالدار لگ رہا ہو ) میں نے جائزہ لیا ، تو وہاں ایک شخص موجود تھا ، جس نے حلہ پہنا ہوا تھا ، میں نے عرض کی : یہ ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : تم اس بات کا جائزہ لو کہ مسجد میں سب سے کم تر حیثیت کا فرد کون ہے ؟ ( یعنی جو سب سے زیادہ غریب لگ رہا ہو ) میں نے جائزہ لیا تو وہاں ایک شخص تھا جس کا لباس پھٹا پرانا تھا ، میں نے عرض کی : یہ ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن یہ ( غریب ) اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اُس ( امیر ) جیسے ، اتنے لوگوں سے بہتر ہو گا جو زمین کو بھر دیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال اور امام بزار اور امام طبرانی کی مختلف اسانید میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال اور امام بزار اور امام طبرانی کی مختلف اسانید میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 17928
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ لِلَّهِ ضَنَائِنَ مِنْ خَلْقِهِ ، يُحْيِيهِمْ فِي عَافِيَةٍ ، فَإِذَا تَوَفَّاهُمْ تَوَفَّاهُمْ إِلَى جَنَّتِهِ ، أُولَئِكَ تَمُرُّ عَلَيْهِمُ الْفِتَنُ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ ، وَهُمْ فِيهَا فِي عَافِيَةٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُسْلِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحِمْصِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَقَدْ جَهِلَهُ الذَّهَبِيُّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں اس کے کچھ مخصوص بندے ہیں ، جنہیں وہ عافیت کی زندگی دیتا ہے اور جب وہ انہیں موت دیتا ہے ، تو ہے ، جنت کی طرف لے جاتا ہے ، یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کے پاس سے تاریک رات کے ٹکڑوں کی مانند فتنے گزرتے ہیں ، لیکن یہ لوگ ان فتنوں میں عافیت کے ساتھ رہتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور مجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن عبداللہ حمصی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، امام ذہبی نے اسے مجہول قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور مجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن عبداللہ حمصی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، امام ذہبی نے اسے مجہول قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 17929
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَفَعَهُ - قَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ الضُّعَفَاءُ الْمَظْلُومُونَ . أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ ؟ كُلُّ جَعْظَرِيٍّ . أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخِيَارِكُمْ ؟ مَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا . أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِشِرَارِكُمْ ؟ الثَّرْثَارُونَ ، الْمُتَشَدِّقُونَ ، الْمُتَفَيْهِقُونَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ : لَا نَعْلَمُهُ يُرْوَى عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَفِيهِ الْبَرَاءُ بْنُ يَزِيدَ ، فَإِنْ كَانَ هُوَ الْبَرَاءَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ فَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَإِنْ كَانَ هُوَ الْبَرَاءَ بْنَ يَزِيدَ الْهَمَذَانِيَّ ، فَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) “” “” کیا میں تمہیں اہل جنت کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ کمزور اور مظلوم لوگ ( جنتی ہوں گے ) کیا میں تمہیں اہل جہنم کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ ہر بدمزاج شخص ( یا زیادہ کھانے والا موٹا شخص جہنمی ہو گا ) کیا میں تمہیں تمہارے بہترین لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ جن کے اخلاق اچھے ہوں ، کیا میں تمہیں ، تمہارے بدترین لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ وہ لوگ جو مصنوعی طریقے سے منہ بنا کر تکبر آمیز انداز میں کلام کرتے ہیں ۔ “ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ہمارے علم کے مطابق
یہ روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے ، اس کی سند میں ایک راوی براء بن یزید ہے ، اگر تو یہ براء بن عبداللہ بن یزید ہے ، تو پھر یہ ضعیف ہے ، اور اگر یہ براء بن یزید ہمدانی ہے تو پھر ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے ، اس کی سند میں ایک راوی براء بن یزید ہے ، اگر تو یہ براء بن عبداللہ بن یزید ہے ، تو پھر یہ ضعیف ہے ، اور اگر یہ براء بن یزید ہمدانی ہے تو پھر ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 17930
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ مُوسَى بْنَ عِمْرَانَ مَرَّ بِرَجُلٍ ، وَهُوَ يَضْطَرِبُ فَقَامَ يَدْعُو اللَّهَ لَهُ أَنْ يُعَافِيَهُ ، فَقَالَ لَهُ : يَا مُوسَى ، إِنَّهُ لَيْسَ الَّذِي يُصِيبُهُ خَبْطٌ مِنْ إِبْلِيسَ ، وَلَكِنَّهُ جُوعُ نَفْسِهِ لِي فَهُوَ الَّذِي تَرَى ، أَنْظُرُ إِلَيْهِ فِي كُلِّ يَوْمٍ مَرَّاتٍ ، أَتَعَجَّبُ مِنْ طَاعَتِهِ فَمُرْهُ فَلْيَدْعُ لَكَ ; فَإِنَّ لَهُ عِنْدِي كُلَّ يَوْمٍ دَعْوَةً " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا جو اضطراب کا شکار تھا ، سیدنا موسیٰ علیہ السلام کھڑے ہو گئے اور اللہ تعالی سے یہ دعا کرنے لگے کہ وہ اسے عافیت عطا کر دے ، ان سے کہا: گیا : اے موسیٰ ! یہ وہ فرد نہیں ہے جسے ابلیس کی طرف سے کوئی خبط لاحق ہو گیا ہو ، بلکہ اس نے اپنے آپ کو میرے لئے بھوکا رکھا ہے تو اب اس کا یہ حال ہے ، جو تم دیکھ رہے ہو ، میں روزانہ کئی مرتبہ اس کی طرف دیکھتا ہوں اور اس کی فرمانبرداری پر خوش ہوتا ہوں ، تم اسے کہو : کہ یہ تمہارے لئے دعا کرے ، کیونکہ میری بارگاہ کی طرف سے اسے روزانہ ایک مخصوص دعا کا حق حاصل ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 17931
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ فِي بَعْضِ سِكَكِ الْمَدِينَةِ فَرَأَى رَجُلًا أَسْوَدَ مَيِّتًا ، قَدْ رَمَوْا بِهِ فِي الطَّرِيقِ ، فَسَأَلَ بَعْضَ مَنْ ثَمَّ عَنْهُ ! فَقَالَ : " مَمْلُوكُ مَنْ هَذَا ؟ " . قَالُوا : مَمْلُوكٌ لِآلِ فُلَانٍ ، فَقَالَ : " أَكُنْتُمْ تَرَوْنَهُ يُصَلِّي ؟ " . قَالُوا : كُنَّا نَرَاهُ أَحْيَانًا يُصَلِّي ، وَأَحْيَانًا لَا يُصَلِّي ، فَقَالَ : " قُومُوا فَاغْسِلُوهُ ، وَكَفِّنُوهُ " . فَقَامُوا فَغَسَّلُوهُ وَكَفَّنُوهُ ، وَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَلَّى عَلَيْهِ ، فَلَمَّا كَبَّرَ قَالَ : " سُبْحَانَ اللَّهِ ، سُبْحَانَ اللَّهِ " . فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاتَهُ قَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، سَمِعْنَاكَ لَمَّا كَبَّرْتَ تَقُولُ : " سُبْحَانَ اللَّهِ ، سُبْحَانَ اللَّهِ " . فَلِمَ قُلْتَ سُبْحَانَ اللَّهِ ، سُبْحَانَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " كَادَتِ الْمَلَائِكَةُ أَنْ تَحُولَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ مِنْ كَثْرَةِ مَا صَلَّوْا عَلَيْهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر مدینہ منورہ کی کسی گلی سے ہوا ، وہاں آپ نے ایک سیاہ فام شخص کی لاش دیکھی جسے راستے میں ڈال دیا گیا تھا ، آپ نے دریافت کیا : اس کا تعلق کن لوگوں سے ہے ؟ پھر آپ نے دریافت کیا : یہ کن کا غلام ہے ؟ لوگوں نے بتایا : آل فلاں کا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم لوگوں نے اسے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : ہم بعض اوقات اسے نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے تھے اور بعض اوقات نہیں بھی دیکھتے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ اُٹھو ! اُسے غسل دو ! اُسے کفن دو ! وہ لوگ اُٹھے انہوں نے اسے غسل دیا انہوں نے اسے کفن دیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی ، جب آپ نے تکبیر کہی ، تو آپ نے کہا: سبحان اللہ ! سبحان اللہ ! جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کر لی ، تو آپ کے اصحاب نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم نے آپ کو سنا کہ جب آپ نے تکبیر کہی ، تو آپ نے فرمایا : سبحان الله ! سبحان اللہ ! آپ نے سبحان اللہ ! سبحان اللہ کیوں کہا: ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کی نماز جنازہ میں اتنے زیادہ فرشتے شریک ہوئے کہ قریب تھا کہ وہ میرے اور اس کے درمیان آ جاتے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔