مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ الْفُقَرَاءِ . باب: فقراء کی فضیلت کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْتَقَى مُؤْمِنَانِ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ ، مُؤْمِنٌ غَنِيٌّ ، وَمُؤْمِنٌ فَقِيرٌ ، كَانَا فِي الدُّنْيَا ، فَأُدْخِلَ الْفَقِيرُ الْجَنَّةَ ، وَحُبِسَ الْغَنِيُّ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يُحْبَسَ ، ثُمَّ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَلَقِيَهُ الْفَقِيرُ فَقَالَ : يَا أَخِي ، مَاذَا حَبَسَكَ ؟ وَاللَّهِ ، لَقَدْ حُبِسْتَ حَتَّى خِفْتُ عَلَيْكَ ، فَيَقُولُ : يَا أَخِي ، إِنِّي حُبِسْتُ بَعْدَكَ حَبْسًا فَظِيعًا كَرِيهًا ، وَمَا وَصَلْتُ إِلَيْكَ حَتَّى سَالَ مِنِّي مِنَ الْعَرَقِ مَا لَوْ وَرَدَهُ أَلْفُ بَعِيرٍ كُلُّهَا آكِلَةُ حِمْضٍ لَصَدَرْنَ عَنْهُ رُوَاءً " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ دُوَيْدٌ غَيْرُ مَنْسُوبٍ ، فَإِنْ كَانَ هُوَ الَّذِي رَوَى عَنْ سُفْيَانَ فَقَدْ ذَكَرَهُ الْعِجْلِيُّ فِي كِتَابِ الثِّقَاتِ ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَهُ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُسْلِمِ بْنِ بَشِيرٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جنت کے دروازے پر دو مؤمن ایک دوسرے سے ملیں گے ، ایک خوشحال مومن ہو گا اور ایک غریب مومن ہو گا ، وہ دنیا میں ( ایسے ) رہے ہوں گے ، غریب کو جنت میں داخل کر دیا جائے گا ، اور خوش حال شخص کو جب تک اللہ کو منظور ہو گا ، روک کر رکھا جائے گا پھر اسے بھی جنت میں داخل کر دیا جائے گا ، غریب کی اس سے ملاقات ہو گی تو وہ کہے گا : اے میرے بھائی ! تمہیں کس چیز نے روک دیا تھا ؟ تم اتنی دیر تک رکے رہے کہ اللہ کی قسم ! مجھے تمہارے بارے میں اندیشہ ہونے لگا ، تو خوشحال شخص کہے گا : اے میرے بھائی ! تمہارے بعد مجھے ایسے طریقے سے روکا گیا ، جو خوفزدہ کرنے والا اور ناپسندیدہ تھا ، اور تم تک پہنچنے سے پہلے ( یعنی حساب دینے کے دوران ) میرا اتنا پسینہ بہہ گیا کہ اگر اس کے پاس ایک ہزار ایسے اونٹ آتے جو نمکین جڑی بوٹیاں کھاتے ہیں ، تو وہ اس پسینے کو پی کر سیراب ہو کر واپس جاتے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی دوید ہے ، جس کا اسم منسوب بیان نہیں کیا گیا ہے ، اگر تو یہ وہ شخص ہے جس سے سفیان نے روایت نقل کی ہے ، تو عجلی نے اس کا ذکر کتاب الثقات میں کیا ہے اور اگر یہ اس کے علاوہ کوئی اور ہے تو میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف سلم بن بشیر کا معاملہ ختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔