حدیث نمبر: 17912
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا ، وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِ أَبِي ذَرٍّ فَقَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، أَعَلِمْتَ أَنَّ بَيْنَ أَيْدِينَا عَقَبَةً كَئُودًا لَا يَصْعَدُهَا إِلَّا الْمُخِفُّونَ " . فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَمِنَ الْمُخِفِّينَ أَنَا أَمْ مِنَ الْمُثْقِلِينَ ؟ فَقَالَ : " عِنْدَكَ طَعَامُ يَوْمٍ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . وَطَعَامُ غَدٍ ؟ قَالَ : " نَعَمْ . وَطَعَامُ بَعْدَ غَدٍ ؟ " . قَالَ : لَا . قَالَ : " لَوْ كَانَ عِنْدَكَ طَعَامُ ثَلَاثٍ كُنْتَ مِنَ الْمُثْقِلِينَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جُنَادَةُ بْنُ مَرْوَانَ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : لَيْسَ بِالْقَوِيِّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کا ہاتھ تھاما ہوا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابوذر ! کیا تم یہ بات جانتے ہو ؟ کہ ہمارے آگے ایک دشوار گزار گھاٹی ہے اور اس پر وہی لوگ چڑھ سکیں گے ، جن کے ( سامان کا وزن کم ہو گا ، ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں ( سامان کے حوالے سے ) تھوڑے وزن والوں میں ہوں ؟ یا زیادہ وزن والوں میں ہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارے پاس ایک دن کا کھانا ہے ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کل کے دن کا کھانا ہے ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : پرسوں کے دن کا کھانا ہے ؟ اس نے عرض کی : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تمہارے پاس تین دن کا کھانا ہو ، تو تم ( سامان کے حوالے سے ) وزن والوں میں سے ہو گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جنادہ بن مروان ہے ، ابوحاتم کہتے ہیں : یہ قوی نہیں ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17912
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف