حدیث نمبر: 17882
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : خَرَجْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَيَدُهُ فِي يَدِي ، فَأَتَى عَلَى رَجُلٍ رَثِّ الْهَيْئَةِ ، قَالَ : " أَبُو فُلَانٍ مَا بَلَغَ بِكَ مَا أَرَى ؟ " . قَالَ : السَّقَمُ وَالضُّرُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ يُذْهِبُ اللَّهُ عَنْكَ السَّقَمَ وَالضُّرَّ ؟ " . قَالَ : [ لَا ] مَا يَسُرُّنِي بِهِمَا أَنِّي شَهِدْتُ مَعَكَ بَدْرًا وَأُحُدًا ، قَالَ : فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ ثُمَّ ] قَالَ : " وَهَلْ يُدْرِكُ أَهْلُ بَدْرٍ وَأَهْلُ أُحُدٍ مَا يُدْرِكُ الْفَقِيرُ الْقَانِعُ ؟ " . قَالَ : فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَا فَعَلِّمْنِي ؟ قَالَ : فَقَالَ : " قُلْ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ : تَوَكَّلْتُ عَلَى الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ وَلِيٌّ مِنَ الذُّلِّ ، وَكَبِّرْهُ تَكْبِيرًا " . ¤ قَالَ : فَأَتَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ حَسُنَتْ حَالِي فَقَالَ : " مَهْيَمْ ؟ " . قَالَ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَمْ أَزَلْ أَقُولُ الْكَلِمَاتِ الَّتِي عَلَّمْتَنِيهِنَّ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَفِيهِ تَوْثِيقٌ لَيِّنٌ ، وَلَكِنَّ حَرْبَ بْنَ مَيْمُونٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک میرے ہاتھ میں تھا ، ایک شخص آپ کے پاس آیا ، جس کا حلیہ خراب تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابوفلاں ! تمہارا یہ حال کیسے ہو گیا ؟ جو میں دیکھ رہا ہوں ، اُس نے کہا: بیماری اور غربت کی وجہ سے ، یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا میں نے تمہیں ان کلمات کی تعلیم نہیں دی تھی ؟ جن کی وجہ سے اللہ تعالی تم سے بیماری اور غربت کو دور کر دیتا ؟ اس نے کہا: جی نہیں ! اُن دونوں ( یعنی بیماری اور غربت ) کے بدلے میں مجھے یہ بھی پسند نہیں ہے کہ میں نے آپ کے ساتھ غزوہ بدر اور غزوہ اُحد میں شرکت کی ہوتی ، راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا اہل بدر اور اہل احد اس مقام تک پہنچ سکتے ہیں ، جہاں قناعت کرنے والا غریب آدمی پہنچتا ہے ؟ راوی کہتے ہیں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ الٹا عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اُن کی تعلیم دیجئے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابوہریرہ ! تم یہ پڑھو : تَوَكَّلْتُ عَلَى الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ وَلِيٌّ مِنَ الذُّلِّ ، وَكَبِّرْهُ تَكْبِيرًا ” میں نے اُس زندہ ذات پر توکل کیا ، جسے موت نہیں آئے گی ، ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جو اولاد سے پاک ہے اور بادشاہی میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور وہ کمزور نہیں ہوتا کہ اُسے کسی مددگار کی ضرورت ہو اور تم بھرپور طریقے سے اُس کی کبریائی بیان کرو ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : پھر ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے ، تو میری حالت بہتر ہو چکی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اس کی وجہ کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں مسلسل وہ کلمات پڑھتا رہتا ہوں ، جو آپ نے مجھے تعلیم دیے تھے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ ضعیف ہے ، اس کی کمزور توثیق کی گئی ہے اور ایک راوی حرب بن میمون ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17882
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (6671)»