حدیث نمبر: 17874
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : بَيْنَمَا رَجُلٌ وَامْرَأَةٌ لَهُ فِي السَّلَفِ الْخَالِي ، لَا يَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ ، فَجَاءَ الرَّجُلُ مِنْ سَفَرِهِ فَدَخَلَ عَلَى امْرَأَتِهِ جَائِعًا ، قَدْ أَصَابَتْهُ مَسْغَبَةٌ شَدِيدَةٌ ، فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ : عِنْدَكَ شَيْءٌ ؟ قَالَتْ : أَبْشِرْ قَدْ أَتَاكَ رِزْقُ اللَّهِ ، فَاسْتَحَثَّهَا وَقَالَ : ابْتَغِي وَيْحَكِ ، إِنْ كَانَ عِنْدَكِ شَيْءٌ ، فَقَالَتْ : نَعَمْ . هُنَيْهَةً نَرْجُو رَحْمَةَ اللَّهِ ، حَتَّى إِذَا طَالَ عَلَيْهِ الطَّوْلُ قَالَ : وَيْحَكِ قُومِي ، فَابْتَغِي إِنْ كَانَ عِنْدَكِ خُبْزٌ فَائْتِينِي بِهِ ; فَإِنِّي قَدْ أَبْلَغْتُ وَجَهِدْتُ ، قَدْ أَبْلَغْتُ وَجَهِدْتُ ، فَقَالَتْ : نَعَمْ . الْآنَ نَنْضَحُ التَّنُّورَ فَلَا تَعْجَلْ ، فَلَمَّا أَنْ سَكَتَ عَنْهَا [ سَاعَةً ] وَتَحَيَّنَتْ أَيْضًا أَنْ يَقُولَ [ لَهَا ] : قَالَتْ هِيَ مِنْ عِنْدِ نَفْسِهَا : لَوْ قُمْتُ فَنَظَرْتُ إِلَى تَنُّورِي ، فَقَامَتْ فَوَجَدَتْ تَنُّورَهَا مَلْآنَ جُنُوبَ الْغَنَمِ ، وَرَحْيَتُهَا تَطْحَنُ ، فَقَامَتْ إِلَى الرَّحَى فَنَقَضَتْهَا ، وَاسْتَجَرَتْ مَا فِي التَّنُّورِ مِنْ جُنُوبِ الْغَنَمِ . ¤ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي الْقَاسِمِ بِيَدِهِ ، عَنْ قَوْلِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ أَخَذَتْ مَا فِي رَحْيَتِهَا وَلَمْ نَنْقُضْهَا لَطَحَنَتْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ایک شخص اور اس کی بیوی خالی گھر میں تھے ان کے پاس ( کھانے کے لئے ) کوئی بھی چیز نہیں تھی وہ شخص سفر سے آیا تھا وہ اپنی بیوی کے پاس آیا تو وہ بھوکا تھا اسے شدید بھوک لگی ہوئی تھی اس نے اپنی بیوی سے دریافت کیا : کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے ؟ اس عورت نے جواب دیا : جی ہاں ! آپ یہ خوشخبری قبول کریں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو رزق دیا ہے ، اس شخص نے کہا: تمہارا ستیاناس ہو ، اگر تمہارے پاس کوئی چیز ہے تو مجھے لا کر دو ! اس عورت نے کہا: اچھا تھوڑی دیر ہمیں اللہ کی رحمت سے امید ہے ، جب زیادہ دیر گزر گئی ، تو اس شخص نے کہا: تمہارا ستیاناس ہو ، تم اُٹھو اور اگر روٹی ہے تو میرے لیے لے کر آؤ ، کیونکہ مجھے شدید بھوک لاحق ہو چکی ہے ، اس عورت نے کہا: اچھا میں نے ابھی تنور جلایا ہے ، آپ جلدی نہ کریں ، جب کچھ دیر تک اس شخص نے اس عورت کو کچھ نہیں کہا: ، اور پھر وہ وقت ہوا کہ وہ عورت کو کچھ کہتا ، تو اس عورت نے سوچا اگر میں اُٹھ کر اپنے تنور کا جائزہ لوں ، تو یہ مناسب ہو گا ، وہ اٹھی تو اس نے اپنے تنور کو پایا کہ اس میں بکری کے پہلو کا گوشت بھرا ہوا تھا ، اور عورت کی چکی آٹا پیس رہی تھی ، وہ چکی کے پاس گئی ، اس نے اس چکی کو روکا اور تنور میں سے بکری کے پہلو کا گوشت نکالا ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا : اگر وہ عورت اس چکی کو نہ روکتی ، تو وہ چکی قیامت کے دن تک آٹا پیستی رہتی ۔ “

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17874
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (421/2)»