مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ يَرْضَى بِمَا قُسِمَ لَهُ . باب: اس شخص کا بیان ، جو اس چیز سے راضی ہو ، جو اس کے حصے میں آئی ہو
عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ قَالَ : حَدَّثَنِي أَحَدُ بَنِي سُلَيْمٍ - وَلَا أَحْسَبُهُ إِلَّا قَدْ رَأَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَبْتَلِي عَبْدَهُ بِمَا أَعْطَاهُ ، فَمَنْ رَضِيَ بِمَا قُسِمَ لَهُ ، بَارَكَ اللَّهُ [ لَهُ ] فِيهِ وَوَسِعَهُ ، وَمَنْ لَمْ يَرْضَ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ابوالعلاء بن شخیر بیان کرتے ہیں : بنو سلیم سے تعلق رکھنے والے ، ایک صاحب نے مجھے
یہ روایت بیان کی اور ان کے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ ان صاحب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہوئی ہے ( انہوں نے یہ بات بیان کی : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” بے شک اللہ تعالیٰ بندے کو جو عطا کرتا ہے ، اس کے حوالے سے وہ اس کو آزماتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ نے اُس کے حصے میں جو مقرر کیا ہو ، اگر وہ بندہ اُس سے راضی ہو تو اللہ تعالیٰ اس شخص کے لئے اس چیز میں برکت رکھ دیتا ہے ، اور اس شخص کو گنجائش نصیب کرتا ہے ، اور اگر وہ شخص راضی نہ ہو ، تو اس کے لئے برکت نہیں رکھی جاتی ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔