کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس شخص کا بیان ، جو زندگی کی مشکلات پر صبر سے کام لے اور لوگوں کے سامنے شکایت نہ کرے
حدیث نمبر: 17870
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ جَاعَ أَوِ احْتَاجَ فَكَتَمَهُ النَّاسَ ، وَأَفْضَى بِهِ إِلَى اللَّهِ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَفْتَحَ لَهُ قُوتَ سَنَةٍ مِنْ حَلَالٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَجَاءٍ الْحِصْنِيُّ ، ضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص بھوکا ہو یا محتاج ہو اور وہ لوگوں سے اُس چیز کو چھپائے ، اور اس کا معاملہ اللہ کے سپرد کر دے ، تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ اُسے حلال طریقے سے ایک سال کی خوراک عطا کرے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن رجاء حصنی ہے جسے امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17870
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (214)»
حدیث نمبر: 17871
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا صَبَرَ أَهْلُ ثَلَاثَةٍ عَلَى جُهْدٍ إِلَّا أَتَاهُمُ اللَّهُ بِرِزْقٍ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس گھر کے افراد تین دن تک بھوک پر صبر کرتے ہیں ، تو اللہ تعالیٰ انہیں رزق نصیب کر دیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17871
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (5708)»
حدیث نمبر: 17872
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أُصِيبَ بِمُصِيبَةٍ بِمَالِهِ ، أَوْ فِي نَفْسِهِ فَكَتَمَهَا ، وَلَمْ يَشْكُهَا إِلَى النَّاسِ ، كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس شخص کو اپنے مال یا جان کے بارے میں کوئی مصیبت لاحق ہو ، اور وہ اُس کو چھپا لے اور لوگوں کے سامنے اس کی شکایت نہ کرے ، تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ اس شخص کی مغفرت کر دے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17872
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (741)»
حدیث نمبر: 17873
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى أَهْلِهِ ، فَلَمَّا رَأَى مَا بِهِمْ مِنَ الْحَاجَةِ خَرَجَ إِلَى الْبَرِّيَّةِ ، فَلَمَّا رَأَتِ امْرَأَتُهُ قَامَتْ إِلَى الرَّحَا فَوَضَعَتْهَا ، وَإِلَى التَّنُّورِ فَسَجَرَتْهُ ، ثُمَّ قَالَتِ : اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا ، فَنَظَرَتْ فَإِذَا الْجَفْنَةُ قَدِ امْتَلَأَتْ . قَالَ : وَذَهَبَتْ إِلَى التَّنُّورِ فَوَجَدَتْهُ مُمْتَلِئًا ، قَالَ : فَرَجَعَ الزَّوْجُ وَقَالَ : أَصَبْتُمْ بَعْدِي شَيْئًا ؟ قَالَتِ امْرَأَتُهُ : نَعَمْ . مِنْ رَبِّنَا ، قَامَ إِلَى الرَّحَا فَرَفَعَهَا ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَمَا إِنَّهُ لَوْ لَمْ يَرْفَعْهَا لَمْ تَزَلْ تَدُورُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَقَالَ : فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ : اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا مَا نَطْحَنُ ، وَمَا نَعْجِنُ ، وَنَخْبِزُ ، فَإِذَا الْجَفْنَةُ مَلْأَى خُبْزًا ، وَالرَّحَا تَطْحَنُ ، وَالتَّنُّورَ مَلْأَى جُنُوبَ شِوَاءٍ ، فَجَاءَ زَوْجُهَا فَقَالَ : عِنْدَكُمْ شَيْءٌ ؟ قَالَتْ : رِزْقُ اللَّهِ - أَوْ قَدْ رَزَقَ اللَّهُ - فَرَفَعَ الرَّحَا ، فَكَنَسَ حَوْلَهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ تَرَكَهَا لَطَحَنَتْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُهُمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَيْخِ الْبَزَّارِ ، وَشَيْخِ الطَّبَرَانِيِّ ، وَهُمَا ثِقَتَانِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص اپنے گھر آیا جب اس نے گھر والوں کی بھوک کو دیکھا تو باہر چلا گیا ، جب اس کی بیوی نے یہ صورتحال دیکھی تو اس نے چکی رکھی تنور جلایا اور پھر یہ کہا: اے اللہ ! تو ہمیں رزق نصیب فرما ! جب اس عورت نے نظر کی تو پیالہ بھرا ہوا تھا ، وہ عورت تنور کی طرف گئی ، تو اس نے اس کو بھی بھرا ہوا پایا ، عورت کا شوہر واپس آیا ، اس نے دریافت کیا : کیا میرے بعد تمہیں کوئی چیز ملی ہے ؟ اس کی بیوی نے کہا: جی ہاں ! ہمارے پروردگار کی طرف سے ملی ہے ، وہ شخص چکی کے پاس گیا اور اس نے اُسے اٹھا لیا ( یعنی اس کو گھومنے سے روک دیا ) پھر اس نے اس بات کا تذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر یہ شخص اُس کو نہ اُٹھاتا ( یعنی نہ روکتا ) تو وہ قیامت کے دن تک گھومتی رہتی ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اس کی بیوی نے کہا: اے اللہ ! تو ہمیں وہ عطا فرما دے جسے ہم پیس لیں اور جس کو گوندھ لیں اور جس کی روٹی پکا لیں ، تو وہ برتن روٹیوں سے بھر گیا اور چکی آٹا پیسنے لگی اور تنو بھی بھنے ہوئے گوشت سے بھر گیا ، اس عورت کا شوہر آیا اور اس نے دریافت کیا : تمہارے پاس کوئی چیز ہے ؟ اس عورت نے جواب دیا : اللہ تعالیٰ نے رزق عطا کیا ہے ، اس شخص نے چکی کو اٹھایا اور اس کے اردگرد جھاڑو دی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر یہ اُس کو رہنے دیتا ، تو وہ قیامت کے دن تک پیستی رہتی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے اور ان کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف امام بزار اور امام طبرانی کے استادوں کا معاملہ مختلف ہے اور وہ دونوں ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17873
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3687) اخرجه احمد فى المسند (513/2)»
حدیث نمبر: 17874
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : بَيْنَمَا رَجُلٌ وَامْرَأَةٌ لَهُ فِي السَّلَفِ الْخَالِي ، لَا يَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ ، فَجَاءَ الرَّجُلُ مِنْ سَفَرِهِ فَدَخَلَ عَلَى امْرَأَتِهِ جَائِعًا ، قَدْ أَصَابَتْهُ مَسْغَبَةٌ شَدِيدَةٌ ، فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ : عِنْدَكَ شَيْءٌ ؟ قَالَتْ : أَبْشِرْ قَدْ أَتَاكَ رِزْقُ اللَّهِ ، فَاسْتَحَثَّهَا وَقَالَ : ابْتَغِي وَيْحَكِ ، إِنْ كَانَ عِنْدَكِ شَيْءٌ ، فَقَالَتْ : نَعَمْ . هُنَيْهَةً نَرْجُو رَحْمَةَ اللَّهِ ، حَتَّى إِذَا طَالَ عَلَيْهِ الطَّوْلُ قَالَ : وَيْحَكِ قُومِي ، فَابْتَغِي إِنْ كَانَ عِنْدَكِ خُبْزٌ فَائْتِينِي بِهِ ; فَإِنِّي قَدْ أَبْلَغْتُ وَجَهِدْتُ ، قَدْ أَبْلَغْتُ وَجَهِدْتُ ، فَقَالَتْ : نَعَمْ . الْآنَ نَنْضَحُ التَّنُّورَ فَلَا تَعْجَلْ ، فَلَمَّا أَنْ سَكَتَ عَنْهَا [ سَاعَةً ] وَتَحَيَّنَتْ أَيْضًا أَنْ يَقُولَ [ لَهَا ] : قَالَتْ هِيَ مِنْ عِنْدِ نَفْسِهَا : لَوْ قُمْتُ فَنَظَرْتُ إِلَى تَنُّورِي ، فَقَامَتْ فَوَجَدَتْ تَنُّورَهَا مَلْآنَ جُنُوبَ الْغَنَمِ ، وَرَحْيَتُهَا تَطْحَنُ ، فَقَامَتْ إِلَى الرَّحَى فَنَقَضَتْهَا ، وَاسْتَجَرَتْ مَا فِي التَّنُّورِ مِنْ جُنُوبِ الْغَنَمِ . ¤ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي الْقَاسِمِ بِيَدِهِ ، عَنْ قَوْلِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ أَخَذَتْ مَا فِي رَحْيَتِهَا وَلَمْ نَنْقُضْهَا لَطَحَنَتْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ایک شخص اور اس کی بیوی خالی گھر میں تھے ان کے پاس ( کھانے کے لئے ) کوئی بھی چیز نہیں تھی وہ شخص سفر سے آیا تھا وہ اپنی بیوی کے پاس آیا تو وہ بھوکا تھا اسے شدید بھوک لگی ہوئی تھی اس نے اپنی بیوی سے دریافت کیا : کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے ؟ اس عورت نے جواب دیا : جی ہاں ! آپ یہ خوشخبری قبول کریں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو رزق دیا ہے ، اس شخص نے کہا: تمہارا ستیاناس ہو ، اگر تمہارے پاس کوئی چیز ہے تو مجھے لا کر دو ! اس عورت نے کہا: اچھا تھوڑی دیر ہمیں اللہ کی رحمت سے امید ہے ، جب زیادہ دیر گزر گئی ، تو اس شخص نے کہا: تمہارا ستیاناس ہو ، تم اُٹھو اور اگر روٹی ہے تو میرے لیے لے کر آؤ ، کیونکہ مجھے شدید بھوک لاحق ہو چکی ہے ، اس عورت نے کہا: اچھا میں نے ابھی تنور جلایا ہے ، آپ جلدی نہ کریں ، جب کچھ دیر تک اس شخص نے اس عورت کو کچھ نہیں کہا: ، اور پھر وہ وقت ہوا کہ وہ عورت کو کچھ کہتا ، تو اس عورت نے سوچا اگر میں اُٹھ کر اپنے تنور کا جائزہ لوں ، تو یہ مناسب ہو گا ، وہ اٹھی تو اس نے اپنے تنور کو پایا کہ اس میں بکری کے پہلو کا گوشت بھرا ہوا تھا ، اور عورت کی چکی آٹا پیس رہی تھی ، وہ چکی کے پاس گئی ، اس نے اس چکی کو روکا اور تنور میں سے بکری کے پہلو کا گوشت نکالا ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا : اگر وہ عورت اس چکی کو نہ روکتی ، تو وہ چکی قیامت کے دن تک آٹا پیستی رہتی ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17874
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (421/2)»