مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ صَبَرَ عَلَى الْعَيْشِ الشَّدِيدِ ، وَلَمْ يَشْكُ إِلَى النَّاسِ . باب: اس شخص کا بیان ، جو زندگی کی مشکلات پر صبر سے کام لے اور لوگوں کے سامنے شکایت نہ کرے
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى أَهْلِهِ ، فَلَمَّا رَأَى مَا بِهِمْ مِنَ الْحَاجَةِ خَرَجَ إِلَى الْبَرِّيَّةِ ، فَلَمَّا رَأَتِ امْرَأَتُهُ قَامَتْ إِلَى الرَّحَا فَوَضَعَتْهَا ، وَإِلَى التَّنُّورِ فَسَجَرَتْهُ ، ثُمَّ قَالَتِ : اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا ، فَنَظَرَتْ فَإِذَا الْجَفْنَةُ قَدِ امْتَلَأَتْ . قَالَ : وَذَهَبَتْ إِلَى التَّنُّورِ فَوَجَدَتْهُ مُمْتَلِئًا ، قَالَ : فَرَجَعَ الزَّوْجُ وَقَالَ : أَصَبْتُمْ بَعْدِي شَيْئًا ؟ قَالَتِ امْرَأَتُهُ : نَعَمْ . مِنْ رَبِّنَا ، قَامَ إِلَى الرَّحَا فَرَفَعَهَا ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَمَا إِنَّهُ لَوْ لَمْ يَرْفَعْهَا لَمْ تَزَلْ تَدُورُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَقَالَ : فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ : اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا مَا نَطْحَنُ ، وَمَا نَعْجِنُ ، وَنَخْبِزُ ، فَإِذَا الْجَفْنَةُ مَلْأَى خُبْزًا ، وَالرَّحَا تَطْحَنُ ، وَالتَّنُّورَ مَلْأَى جُنُوبَ شِوَاءٍ ، فَجَاءَ زَوْجُهَا فَقَالَ : عِنْدَكُمْ شَيْءٌ ؟ قَالَتْ : رِزْقُ اللَّهِ - أَوْ قَدْ رَزَقَ اللَّهُ - فَرَفَعَ الرَّحَا ، فَكَنَسَ حَوْلَهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ تَرَكَهَا لَطَحَنَتْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُهُمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَيْخِ الْبَزَّارِ ، وَشَيْخِ الطَّبَرَانِيِّ ، وَهُمَا ثِقَتَانِ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص اپنے گھر آیا جب اس نے گھر والوں کی بھوک کو دیکھا تو باہر چلا گیا ، جب اس کی بیوی نے یہ صورتحال دیکھی تو اس نے چکی رکھی تنور جلایا اور پھر یہ کہا: اے اللہ ! تو ہمیں رزق نصیب فرما ! جب اس عورت نے نظر کی تو پیالہ بھرا ہوا تھا ، وہ عورت تنور کی طرف گئی ، تو اس نے اس کو بھی بھرا ہوا پایا ، عورت کا شوہر واپس آیا ، اس نے دریافت کیا : کیا میرے بعد تمہیں کوئی چیز ملی ہے ؟ اس کی بیوی نے کہا: جی ہاں ! ہمارے پروردگار کی طرف سے ملی ہے ، وہ شخص چکی کے پاس گیا اور اس نے اُسے اٹھا لیا ( یعنی اس کو گھومنے سے روک دیا ) پھر اس نے اس بات کا تذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر یہ شخص اُس کو نہ اُٹھاتا ( یعنی نہ روکتا ) تو وہ قیامت کے دن تک گھومتی رہتی ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اس کی بیوی نے کہا: اے اللہ ! تو ہمیں وہ عطا فرما دے جسے ہم پیس لیں اور جس کو گوندھ لیں اور جس کی روٹی پکا لیں ، تو وہ برتن روٹیوں سے بھر گیا اور چکی آٹا پیسنے لگی اور تنو بھی بھنے ہوئے گوشت سے بھر گیا ، اس عورت کا شوہر آیا اور اس نے دریافت کیا : تمہارے پاس کوئی چیز ہے ؟ اس عورت نے جواب دیا : اللہ تعالیٰ نے رزق عطا کیا ہے ، اس شخص نے چکی کو اٹھایا اور اس کے اردگرد جھاڑو دی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر یہ اُس کو رہنے دیتا ، تو وہ قیامت کے دن تک پیستی رہتی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے اور ان کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف امام بزار اور امام طبرانی کے استادوں کا معاملہ مختلف ہے اور وہ دونوں ثقہ ہیں ۔