مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَمَلِ وَالْأَجَلِ . باب: آرزو اور موت کے بارے میں ، جو منقول ہے
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَرَزَ بَيْنَ يَدَيْهِ غَرْزًا ، ثُمَّ غَرَزَ إِلَى جَنْبِهِ آخَرُ ، ثُمَّ غَرَزَ الثَّالِثُ فَأَبْعَدَهُ ، ثُمَّ قَالَ : " هَلْ تَدْرُونَ مَا هَذَا ؟ " . قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " هَذَا الْإِنْسَانُ ، وَهَذَا أَجَلُهُ ، وَهَذَا أَمَلُهُ ، يَتَعَاطَى الْأَمَلَ ، يَخْتَلِجُهُ الْأَجَلُ دُونَ ذَلِكَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَلِيِّ بْنِ عَلِيٍّ الرِّفَاعِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آگے ایک ( لکڑی ) گاڑ دی ، پھر آپ نے اس کے ساتھ ایک اور ( لکڑی ) گاڑ دی ، پھر آپ نے ایک اور ( لکڑی ) گاڑ دی ، لیکن اس کو ذرا دور رکھا ، پھر آپ نے دریافت کیا : کیا تم لوگ جانتے ہو ؟ یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : اللہ تعالیٰ اور اُس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ انسان ہے ، یہ اُس کی موت ہے اور یہ اس کی اُمیدیں ( یعنی خواہشات ) ہیں ، یہ امیدیں ( یعنی خواہشات ) یکے بعد دیگرے آتی رہتی ہیں ، اور اُن کے درمیان میں ، اُن ( کے ختم یا پورے ہونے ) سے پہلے ہی موت آ جاتی ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف علی بن علی رفاعی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ شخص ثقہ ہے ۔