حدیث نمبر: 17861
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَرَزَ بَيْنَ يَدَيْهِ غَرْزًا ، ثُمَّ غَرَزَ إِلَى جَنْبِهِ آخَرُ ، ثُمَّ غَرَزَ الثَّالِثُ فَأَبْعَدَهُ ، ثُمَّ قَالَ : " هَلْ تَدْرُونَ مَا هَذَا ؟ " . قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " هَذَا الْإِنْسَانُ ، وَهَذَا أَجَلُهُ ، وَهَذَا أَمَلُهُ ، يَتَعَاطَى الْأَمَلَ ، يَخْتَلِجُهُ الْأَجَلُ دُونَ ذَلِكَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَلِيِّ بْنِ عَلِيٍّ الرِّفَاعِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آگے ایک ( لکڑی ) گاڑ دی ، پھر آپ نے اس کے ساتھ ایک اور ( لکڑی ) گاڑ دی ، پھر آپ نے ایک اور ( لکڑی ) گاڑ دی ، لیکن اس کو ذرا دور رکھا ، پھر آپ نے دریافت کیا : کیا تم لوگ جانتے ہو ؟ یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : اللہ تعالیٰ اور اُس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ انسان ہے ، یہ اُس کی موت ہے اور یہ اس کی اُمیدیں ( یعنی خواہشات ) ہیں ، یہ امیدیں ( یعنی خواہشات ) یکے بعد دیگرے آتی رہتی ہیں ، اور اُن کے درمیان میں ، اُن ( کے ختم یا پورے ہونے ) سے پہلے ہی موت آ جاتی ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف علی بن علی رفاعی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ شخص ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف علی بن علی رفاعی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ شخص ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 17862
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو - لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا رَفَعَهُ - قَالَ : " صَلَاحُ أَوَّلِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بِالزَّهَادَةِ وَالْيَقِينِ ، وَهَلَاكُهَا بِالْبُخْلِ وَالْأَمَلِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عِصْمَةُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ ” مرفوع “ حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اس اُمت کے ابتدائی حصے کی بہتری زہد اور یقین کے ذریعے ہو گی ، اور ان کی ہلاکت ، بخل اور خواہشات کے ذریعے ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن متوکل ہے ، جسے ایک سے زیادہ افراد نے ضعیف قرار دیا ہے ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن متوکل ہے ، جسے ایک سے زیادہ افراد نے ضعیف قرار دیا ہے ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 17863
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَهِيَ لَا تَزْدَادُ مِنْهُمْ إِلَّا بُعْدًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت قریب آ رہی ہے اور لوگ اُس سے دور ہوتے جا رہے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 17864
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " اقْتِرَابُ السَّاعَةِ أَنْ تَكُونَ السَّنَةُ كَالشَّهْرِ ، وَالشَّهْرُ كَالْجُمُعَةِ ، وَالْجُمُعَةُ كَالْيَوْمِ ، وَالْيَوْمُ كَالسَّاعَةِ ، وَالسَّاعَةُ كَضَرَمَةِ نَارٍ ، وَلَيَنَامَنَّ أَحَدُكُمْ وَأَجَلُهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ " . قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، عَنْ شَيْخِهِ : الْمِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ قِيلَ : إِنَّهُ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قیامت قریب آئے گی تو ایک سال ، ایک مہینے کی مانند ہو گا ، ایک مہینہ ، ایک ہفتے کی مانند ہو گا ، ایک ہفتہ ، ایک دن کی مانند ہو گا ، ایک دن ، ایک پہر کی مانند ہو گا اور ایک پہر ، آگ کے انگارے ( یا چنگاری ) کی مانند ہو گا ، تم میں سے کوئی ایک شخص سوئے گا اور اس کی موت ، اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان ہو گی ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے یہ بات کہی گئی ہے : کہ اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے یہ بات کہی گئی ہے : کہ اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔