مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَمَلِ وَالْأَجَلِ . باب: آرزو اور موت کے بارے میں ، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 17862
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو - لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا رَفَعَهُ - قَالَ : " صَلَاحُ أَوَّلِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بِالزَّهَادَةِ وَالْيَقِينِ ، وَهَلَاكُهَا بِالْبُخْلِ وَالْأَمَلِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عِصْمَةُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ ” مرفوع “ حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اس اُمت کے ابتدائی حصے کی بہتری زہد اور یقین کے ذریعے ہو گی ، اور ان کی ہلاکت ، بخل اور خواہشات کے ذریعے ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن متوکل ہے ، جسے ایک سے زیادہ افراد نے ضعیف قرار دیا ہے ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے ۔