مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَكْفِي ابْنَ آدَمَ مِنَ الدُّنْيَا . باب: ابن آدم کے لئے ، دنیا میں کتنا کچھ کفایت کرتا ہے ؟
حدیث نمبر: 17856
وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا يَكْفِينِي مِنَ الدُّنْيَا ؟ قَالَ : " مَا سَدَّ جَوْعَتَكَ ، وَوَارَى عَوْرَتَكَ ، وَإِنْ كَانَ لَكَ بَيْتٌ يُظِلُّكَ فَذَاكَ ، وَإِنْ كَانَتْ لَكَ دَابَّةٌ فَبَخٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! دنیا میں سے کتنی چیز میرے لئے کافی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو تمہاری بھوک کو ختم کر دے ، تمہاری شرمگاہ کو ڈھانپ دے اور اگر تمہیں گھر مل جائے ، جو تم پر سایہ کرے ، تو اچھا ہے اور اگر تمہیں سواری بھی مل جائے ، تو کیا کہنے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن عمارہ ہے اور وہ متروک ہے ۔