مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَكْفِي ابْنَ آدَمَ مِنَ الدُّنْيَا . باب: ابن آدم کے لئے ، دنیا میں کتنا کچھ کفایت کرتا ہے ؟
حدیث نمبر: 17855
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى سَلْمَانَ فَرَأَيْتُ بَيْتَهُ رَثًّا ، فَقُلْتُ لَهُ فِي ذَلِكَ فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَهِدَ إِلَيَّ : " أَنْ يَكُونَ زَادُكَ مِنَ الدُّنْيَا كَزَادِ الرَّاكِبِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْحَسَنِ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْجَعْدِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے ان کے گھر کو دیکھا کہ وہاں سامان کم تھا ، میں نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ تلقین کی تھی : ” دنیا میں ، تمہارا ساز و سامان ، سوار ( یعنی مسافر ) کے زاد سفر کی مانند ہونا چاہیے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف حسن بن یحیی بن جعد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔