کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ابن آدم کے لئے ، دنیا میں کتنا کچھ کفایت کرتا ہے ؟
حدیث نمبر: 17853
عَنْ أَبِي حَسَبَةَ : مُسْلِمِ بْنِ أَكْيَسَ ، مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ قَالَ : ذَكَرَ مَنْ دَخَلَ عَلَيْهِ فَوَجَدَهُ يَبْكِي فَقَالَ : مَا يُبْكِيكَ يَا أَبَا عُبَيْدَةَ ؟ فَقَالَ : نَبْكِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَكَرَ يَوْمًا مَا يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ ، وَيَفِيءُ عَلَيْهِمْ حَتَّى ذَكَرَ الشَّامَ فَقَالَ : " إِنْ يُنْسَأْ فِي أَجْلِكَ يَا أَبَا عُبَيْدَةَ ، فَحَسْبُكَ مِنَ الْخَدَمِ ثَلَاثَةٌ : خَادِمٌ يَخْدِمُكَ ، وَخَادِمٌ يُسَافِرُ مَعَكَ ، وَخَادِمٌ يَخْدِمُ أَهْلَكَ وَيَرُدُّ عَلَيْهِمْ . وَحَسْبُكَ مِنَ الدَّوَابِّ ثَلَاثَةٌ : دَابَّةٌ لِرِحَلِكَ ، وَدَابَّةٌ لِنَقْلِكَ ، وَدَابَّةٌ لِغُلَامِكَ " . ثُمَّ هَذَا أَنَا أَنْظُرُ إِلَى بَيْتِي قَدِ امْتَلَأَ رَقِيقًا ، وَأَنْظُرُ إِلَى مِرْبَطِي قَدِ امْتَلَأَ دَوَابَّ وَخَيْلًا ، فَكَيْفَ أَلْقَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ هَذَا وَقَدْ أَوْصَانَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ أَحَبَّكُمْ إِلَيَّ ، وَأَقْرَبَكُمْ مِنِّي مَنْ لَقِيَنِي عَلَى مِثْلِ الْحَالِ الَّذِي فَارَقَنِي عَلَيْهَا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوحسبہ مسلم بن اکیس ، جو عبداللہ بن عامر کے غلام ہیں ، انہوں نے سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے : ایک شخص نے یہ بات بتائی ہے : وہ ایک مرتبہ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہیں روتے ہوئے پایا ، اس نے دریافت کیا : اے سیدنا ابوعبیدہ ! آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : ہم اس بات پر رو رہے ہیں کہ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ذکر کی کہ اللہ تعالیٰ کیسے مسلمانوں کو فتح نصیب کرے گا اور انہیں مال فے عطا کرے گا ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کا ذکر کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا : ” اے ابوعبیدہ ! اگر تمہاری عمر طویل ہوئی ، تو تمہارے لئے تین خدمت گزار کافی ہوں گے ، ایک وہ خادم ، جو تمہاری خدمت کرے ، ایک وہ خادم ، جو تمہارے ساتھ سفر پر جائے اور ایک وہ خادم ، جو تمہارے اہل خانہ کی خدمت کرے اور ان کی دیکھ بھال کرے ، اور تمہارے لیے تین جانور کافی ہوں گے ، ایک جانور تمہاری سواری کے لیے ، ایک جانور تمہارے سامان کے لئے اور ایک جانور تمہارے غلام کے لئے ۔ “ ( پھر سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) اور اب میں اپنے گھر کو دیکھ رہا ہوں کہ غلاموں سے بھرا ہوا ہے ، اور میں اپنے اصطبل کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ جانوروں اور گھوڑوں سے بھرا ہوا ہے ، تو اس کے بعد میں کس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملوں گا ؟ جب کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ تلقین کی تھی : ” تم میں سے میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب اور میرے سب سے زیادہ قریب وہ شخص ہو گا ، جو اس حال میں رہے گا جس حال میں ، وہ مجھ سے جدا ہوا تھا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17853
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (1696)»
حدیث نمبر: 17854
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ قَالَ : عَادَ خَبَّابًا نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : أَبْشِرْ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، تَرِدُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْحَوْضَ ؛ فَقَالَ : فَكَيْفَ بِهَذَا ! وَأَشَارَ إِلَى أَعْلَى الْبَيْتِ وَأَسْفَلِهِ ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّمَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ مِنَ الدُّنْيَا كَزَادِ الرَّاكِبِ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
یحیی بن جعدہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب ، سیدنا خباب رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لئے گئے ، أن حضرات نے کہا: اے ابوعبداللہ ! آپ کو مبارک ہو ، آپ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حوض ( کوثر ) پر جائیں گے ، تو سیدنا خباب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس کے ہوتے ہوئے کیسے ہو سکتا ہے ؟ انہوں نے گھر کے اوپر والے اور نیچے والے حصے کی طرف اشارہ کر کے یہ بات کہی ، جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” تم میں سے کسی ایک کے لئے ، دنیا میں سے اتنی چیز کفایت کرتی ہے ، جتنا کسی سوار ( یعنی مسافر ) کا زاد سفر ہوتا ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف یحیی بن جعدہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17854
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (7214)»
حدیث نمبر: 17855
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى سَلْمَانَ فَرَأَيْتُ بَيْتَهُ رَثًّا ، فَقُلْتُ لَهُ فِي ذَلِكَ فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَهِدَ إِلَيَّ : " أَنْ يَكُونَ زَادُكَ مِنَ الدُّنْيَا كَزَادِ الرَّاكِبِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْحَسَنِ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْجَعْدِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے ان کے گھر کو دیکھا کہ وہاں سامان کم تھا ، میں نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ تلقین کی تھی : ” دنیا میں ، تمہارا ساز و سامان ، سوار ( یعنی مسافر ) کے زاد سفر کی مانند ہونا چاہیے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف حسن بن یحیی بن جعد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17855
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6160 و 6069) اخرجها حمد فى المسند (438/5)»
حدیث نمبر: 17856
وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا يَكْفِينِي مِنَ الدُّنْيَا ؟ قَالَ : " مَا سَدَّ جَوْعَتَكَ ، وَوَارَى عَوْرَتَكَ ، وَإِنْ كَانَ لَكَ بَيْتٌ يُظِلُّكَ فَذَاكَ ، وَإِنْ كَانَتْ لَكَ دَابَّةٌ فَبَخٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! دنیا میں سے کتنی چیز میرے لئے کافی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو تمہاری بھوک کو ختم کر دے ، تمہاری شرمگاہ کو ڈھانپ دے اور اگر تمہیں گھر مل جائے ، جو تم پر سایہ کرے ، تو اچھا ہے اور اگر تمہیں سواری بھی مل جائے ، تو کیا کہنے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن عمارہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17856
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 17857
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ قَالَ : بِيعَ مَتَاعُ سَلْمَانَ فَبَلَغَ أَرْبَعَةَ عَشَرَ دِرْهَمًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ ، إِلَّا أَنَّ عَلِيَّ بْنَ بَذِيمَةَ لَمْ يُدْرِكْ سَلْمَانَ ، فَإِنْ كَانَتْ تَرِكَتُهُ تَأَخَّرَتْ فَهُوَ مُتَّصِلٌ . ¤
محمد محی الدین
علی بن بذیمہ بیان کرتے ہیں : سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کا سامان فروخت کیا گیا ، تو اس کی قیمت 14 درہم تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند عمدہ ہے البتہ یہ ہے کہ علی بن بذیمہ نے سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17857
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ جید ولکنہ منقطع