مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَكْفِي ابْنَ آدَمَ مِنَ الدُّنْيَا . باب: ابن آدم کے لئے ، دنیا میں کتنا کچھ کفایت کرتا ہے ؟
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ قَالَ : عَادَ خَبَّابًا نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : أَبْشِرْ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، تَرِدُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْحَوْضَ ؛ فَقَالَ : فَكَيْفَ بِهَذَا ! وَأَشَارَ إِلَى أَعْلَى الْبَيْتِ وَأَسْفَلِهِ ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّمَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ مِنَ الدُّنْيَا كَزَادِ الرَّاكِبِ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤یحیی بن جعدہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب ، سیدنا خباب رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لئے گئے ، أن حضرات نے کہا: اے ابوعبداللہ ! آپ کو مبارک ہو ، آپ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حوض ( کوثر ) پر جائیں گے ، تو سیدنا خباب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس کے ہوتے ہوئے کیسے ہو سکتا ہے ؟ انہوں نے گھر کے اوپر والے اور نیچے والے حصے کی طرف اشارہ کر کے یہ بات کہی ، جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” تم میں سے کسی ایک کے لئے ، دنیا میں سے اتنی چیز کفایت کرتی ہے ، جتنا کسی سوار ( یعنی مسافر ) کا زاد سفر ہوتا ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف یحیی بن جعدہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔