مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَكْفِي ابْنَ آدَمَ مِنَ الدُّنْيَا . باب: ابن آدم کے لئے ، دنیا میں کتنا کچھ کفایت کرتا ہے ؟
عَنْ أَبِي حَسَبَةَ : مُسْلِمِ بْنِ أَكْيَسَ ، مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ قَالَ : ذَكَرَ مَنْ دَخَلَ عَلَيْهِ فَوَجَدَهُ يَبْكِي فَقَالَ : مَا يُبْكِيكَ يَا أَبَا عُبَيْدَةَ ؟ فَقَالَ : نَبْكِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَكَرَ يَوْمًا مَا يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ ، وَيَفِيءُ عَلَيْهِمْ حَتَّى ذَكَرَ الشَّامَ فَقَالَ : " إِنْ يُنْسَأْ فِي أَجْلِكَ يَا أَبَا عُبَيْدَةَ ، فَحَسْبُكَ مِنَ الْخَدَمِ ثَلَاثَةٌ : خَادِمٌ يَخْدِمُكَ ، وَخَادِمٌ يُسَافِرُ مَعَكَ ، وَخَادِمٌ يَخْدِمُ أَهْلَكَ وَيَرُدُّ عَلَيْهِمْ . وَحَسْبُكَ مِنَ الدَّوَابِّ ثَلَاثَةٌ : دَابَّةٌ لِرِحَلِكَ ، وَدَابَّةٌ لِنَقْلِكَ ، وَدَابَّةٌ لِغُلَامِكَ " . ثُمَّ هَذَا أَنَا أَنْظُرُ إِلَى بَيْتِي قَدِ امْتَلَأَ رَقِيقًا ، وَأَنْظُرُ إِلَى مِرْبَطِي قَدِ امْتَلَأَ دَوَابَّ وَخَيْلًا ، فَكَيْفَ أَلْقَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ هَذَا وَقَدْ أَوْصَانَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ أَحَبَّكُمْ إِلَيَّ ، وَأَقْرَبَكُمْ مِنِّي مَنْ لَقِيَنِي عَلَى مِثْلِ الْحَالِ الَّذِي فَارَقَنِي عَلَيْهَا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ابوحسبہ مسلم بن اکیس ، جو عبداللہ بن عامر کے غلام ہیں ، انہوں نے سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے : ایک شخص نے یہ بات بتائی ہے : وہ ایک مرتبہ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہیں روتے ہوئے پایا ، اس نے دریافت کیا : اے سیدنا ابوعبیدہ ! آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : ہم اس بات پر رو رہے ہیں کہ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ذکر کی کہ اللہ تعالیٰ کیسے مسلمانوں کو فتح نصیب کرے گا اور انہیں مال فے عطا کرے گا ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کا ذکر کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا : ” اے ابوعبیدہ ! اگر تمہاری عمر طویل ہوئی ، تو تمہارے لئے تین خدمت گزار کافی ہوں گے ، ایک وہ خادم ، جو تمہاری خدمت کرے ، ایک وہ خادم ، جو تمہارے ساتھ سفر پر جائے اور ایک وہ خادم ، جو تمہارے اہل خانہ کی خدمت کرے اور ان کی دیکھ بھال کرے ، اور تمہارے لیے تین جانور کافی ہوں گے ، ایک جانور تمہاری سواری کے لیے ، ایک جانور تمہارے سامان کے لئے اور ایک جانور تمہارے غلام کے لئے ۔ “ ( پھر سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) اور اب میں اپنے گھر کو دیکھ رہا ہوں کہ غلاموں سے بھرا ہوا ہے ، اور میں اپنے اصطبل کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ جانوروں اور گھوڑوں سے بھرا ہوا ہے ، تو اس کے بعد میں کس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملوں گا ؟ جب کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ تلقین کی تھی : ” تم میں سے میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب اور میرے سب سے زیادہ قریب وہ شخص ہو گا ، جو اس حال میں رہے گا جس حال میں ، وہ مجھ سے جدا ہوا تھا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔