مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي الِاقْتِصَادِ . باب: میانہ روی کا مزید بیان
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : كَانَ يَقْدَمُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَوْمٌ لَيْسَتْ لَهُمْ مَعَارِفُ ، فَيَأْخُذُ الرَّجُلُ بِيَدِ الرَّجُلِ ، وَالرَّجُلُ بِيَدِ الرَّجُلَيْنِ ، وَالرَّجُلُ بِيَدِ الثَّلَاثَةِ عَلَى قَدْرِ طَاقَتِهِ ، فَأَخَذَ خَتَنِي بِيَدِ رَجُلَيْنِ ، فَخَلَوْتُ بِهِ فَلُمْتُهُ فَقُلْتُ : تَأْخُذُ رَجُلَيْنِ وَعِنْدَكَ مَا عِنْدَكَ ؟ ! فَقَالَ : إِنَّ عِنْدَنَا رِزْقًا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ ، فَانْطَلَقْ حَتَّى أُرِيَكَ ، فَانْطَلَقْتُ فَأَرَانِي شَيْئًا مِنْ بُرٍّ فَقَالَ : هَذَا عِنْدَنَا ، فَقُلْتُ : مِنْ أَيْنَ لَكَ هَذَا ؟ قَالَ : اشْتَرَيْنَاهُ مِنَ الْعِيرِ الَّتِي قَدِمَتْ أَمْسِ ، وَأَرَانِي مِثْلَ جَنْوَةِ الْبَعِيرِ تَمْرًا ، وَقَالَ : هَذَا عِنْدَنَا ، وَأَرَانِي جَرَّةً فِيهَا وَدَكٌ وَقَالَ : وَهَذَا دِهَانٌ وَإِدَامٌ ، ثُمَّ غَدَا بِهِمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْ رَاحَ بِهِمَا ، وَقَدْ أَطْعَمَهُمَا وَدَهَنَهُمَا ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنِّي أَرَى صَاحِبَيْكَ حَسَنَيِ الْحَالِ ، كَمْ تُطْعِمُهُمَا كُلَّ يَوْمٍ مِنْ وَجْبَةٍ ؟ " . قَالَ : وَجْبَتَيْنِ ، قَالَ : " وَجْبَتَيْنِ ؟ فَلَوْلَا كَانَتْ وَاحِدَةً " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے ، ان کے لئے کھانے پینے کا بندوبست کرنے کی گنجائش نہیں تھی ، تو کسی شخص نے ایک شخص کا ہاتھ پکڑ لیا ، کسی نے دو افراد کا ہاتھ پکڑ لیا ، کسی نے تین افراد کا ہاتھ پکڑ لیا ، ہر شخص نے اپنی گنجائش کے مطابق کسی کو ساتھ لے لیا ، میرے بہنوئی نے دو آدمیوں کا ہاتھ پکڑ لیا ، میں انہیں الگ لے کے گیا اور میں نے انہیں ملامت کرتے ہوئے یہ کہا: آپ نے دو آدمیوں کو لے لیا ہے ، حالانکہ آپ کے پاس پہلے ہی تھوڑا سا ( مال ) ہے ، انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے ہمیں رزق نصیب ہوا ہے ، تم چلو ! میں تمہیں دکھاتا ہوں ، میں چل پڑا ، تو انہوں نے مجھے تھوڑی سی گندم دکھائی ، انہوں نے کہا: یہ ہمارے پاس ہے ، میں نے دریافت کیا : یہ آپ کے پاس کہاں سے آئی ہے ؟ انہوں نے بتایا : یہ میں نے اس قافلے سے خریدی ہے ، جو گزشتہ شام آیا تھا ، پھر انہوں نے مجھے کھجوروں کا ڈھیر دکھایا اور بولے : یہ بھی ہمارے پاس ہیں ، پھر انہوں نے مجھے ایک مٹکا دکھایا ، جس میں چربی موجود تھی ، انہوں نے کہا: یہ تیل اور سالن ہے ، پھر اگلے دن صبح وہ دونوں کو ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے ، انہوں نے ان دونوں مہمانوں کو کھانا بھی کھلایا تھا اور تیل بھی لگایا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : میرا خیال ہے تمہارے دونوں ساتھی اچھے حال میں ہیں ، تم انہیں روزانہ کتنا اناج کھانے کے لئے دیتے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا : دو وجبہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : دو وجبہ ؟ ایک وجبہ کیوں نہیں ؟
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔