مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ الِاقْتِصَادِ . باب: میانہ روی اختیار کرنا
وَعَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ : تَمَشَّى مَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَكَّةَ ، وَهُوَ صَائِمٌ ، فَأَجْهَدَهُ الصَّوْمُ ، فَحَلَبْنَا لَهُ نَاقَةً لَنَا فِي قَعْبٍ ، وَصَبَبْنَا عَلَيْهِ عَسَلًا نُكْرِمُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ فِطْرِهِ ، فَلَمَّا غَابَتِ الشَّمْسُ نَاوَلْنَاهُ الْقَعْبَ ، فَلَمَّا ذَاقَهُ قَالَ بِيَدِهِ كَأَنَّهُ يَقُولُ : " مَا هَذَا ؟ ! " قُلْنَا : لَبَنًا وَعَسَلًا ، أَرَدْنَا نُكْرِمُكَ بِهِ - أَحْسَبُهُ قَالَ : - " أَكْرَمَكَ اللَّهُ بِمَا أَكْرَمْتَنِي " . أَوْ دَعْوَةً هَذِهِ مَعْنَاهَا ، ثُمَّ قَالَ : " مَنِ اقْتَصَدَ أَغْنَاهُ اللَّهُ ، وَمَنْ بَذَرَ أَفْقَرَهُ اللَّهُ ، وَمَنْ تَوَاضَعَ رَفَعَهُ اللَّهُ ، وَمَنْ تَجَبَّرَ قَصَمَهُ اللَّهُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مِمَّنْ أَعْرِفُهُ اثْنَانِ . ¤سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ پیدل چلتے ہوئے جا رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا تھا ، روزے کی وجہ سے آپ کو مشکل تھی ، ہم نے آپ کے لیے اپنی اونٹنی کا دودھ ایک پیالے میں دوہ لیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی افطاری کے اہتمام کے لیے ہم نے اس میں شہد ملا دیا ، جب سورج غروب ہوا تو وہ پیالہ ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کیا ، جب آپ نے اسے چکھا تو آپ نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کر کے دریافت کیا : یہ کیا ہے ؟ ہم نے عرض کی : دودھ اور شہد ہے ، ہم نے اس کے ذریعے آپ کے لئے اہتمام کرنا چاہا تھا ( راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے : روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) اللہ تعالیٰ تمہاری عزت افزائی کرے ، جس طرح تم نے میری عزت افزائی کی ہے ۔ “ یا اس کی مانند کوئی اور دعائیہ کلمات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص میانہ روی اختیار کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اسے خوش حال کر دیتا ہے ، جو شخص فضول خرچی کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اسے غریب کر دیتا ہے ، جو شخص تواضع اختیار کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اسے بلندی نصیب کرتا ہے ، جو شخص تکبر کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں دو افراد ایسے ہیں ، جن سے میں واقف ہوں ۔