حدیث نمبر: 17846
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ لِأَحَدِكُمْ يَوْمَ يَمُوتُ ثَلَاثَةُ أَخِلَّاءَ ، مِنْهُمْ مَنْ يَمْنَعُهُ مَا سَأَلَهُ ، فَذَلِكَ مَالُهُ ، وَمِنْهُمْ خَلِيلٌ يَنْطَلِقُ مَعَهُ حَتَّى يَلِجَ الْقَبْرَ ، وَلَا يُعْطِيَهُ شَيْئًا وَلَا يَمْنَعَهُ ، فَأُولَئِكَ قَرَائِنُهُ ، وَمِنْهُمْ خَلِيلٌ يَقُولُ : أَنَا مَعَكَ حَيْثُ ذَهَبْتَ ، وَلَسْتُ بِمُفَارِقِكَ ، فَذَلِكَ عَمَلُهُ ، إِنْ كَانَ خَيْرًا أَوْ شَرًّا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تم میں سے کوئی ایک شخص جب مرتا ہے ، تو اس کے تین ساتھی ہوتے ہیں ، اُن میں سے ایک ایسا ہوتا ہے کہ آدمی اس سے جو مانگتا ہے ، وہ انکار کر دیتا ہے ، یہ اس کا مال ہے ، ان میں سے ایک ساتھی ایسا ہوتا ہے جو آدمی کے ساتھ چلتا ہوا جاتا ہے ، یہاں تک کہ آدمی قبر میں داخل ہو جاتا ہے ، وہ ساتھی اس آدمی کو کچھ نہیں دیتا اور نہ ہی کچھ منع کرتا ہے ، یہ اس کے رشتے دار ہیں ، ان میں سے ایک ساتھی یہ کہتا ہے : تم جہاں بھی جاؤ گے میں تمہارے ساتھ رہوں گا ، میں تم سے جدا نہیں ہوؤں گا ، یہ اس شخص کا عمل ہے ، خواہ وہ بھلا ہو یا برا ہو ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے ضعیف سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17846
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف ولکن عند الشواھد حدیث صحیح، ولہ شاہد
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3227) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7075)»