حدیث نمبر: 17827
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أُشْرِبَ قَلْبُهُ حُبَّ الدُّنْيَا الْتَاطَ مِنْهَا بِثَلَاثٍ : شَقَاءٍ لَا يَنْفَدُ عَنَاهُ ، وَحِرْصٍ لَا يَبْلُغُ غِنَاهُ ، وَأَمَلٍ لَا يَبْلُغُ مُنْتَهَاهُ . فَالدُّنْيَا طَالِبَةٌ وَمَطْلُوبَةٌ ، فَمِنْ طَلَبَ الدُّنْيَا طَلَبَتْهُ الْآخِرَةُ حَتَّى يُدْرِكَهُ الْمَوْتُ فَيَأْخُذَهُ ، وَمَنْ طَلَبَ الْآخِرَةَ طَلَبَتْهُ الدُّنْيَا حَتَّى يَسْتَوْفِيَ مِنْهَا رِزْقَهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ : جَبْرُونَ بْنِ عِيسَى الْمُقْرِئِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ الْحَفْرِيِّ ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ ، وَلَمْ أَعْرِفْ جَبْرُونَ ، وَأَمَّا يَحْيَى فَقَدْ ذَكَرَ الذَّهَبِيُّ فِي الْمِيزَانِ فِي آخِرِ تَرْجَمَةِ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِيُّ فَقَالَ : فَأَمَّا سَمِيُّهُ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْحَفْرِيُّ فَمَا عَلِمْتُ بِهِ بَأْسًا ، ثُمَّ ذَكَرَ بَعْدَهُ يَحْيَى بْنَ سُلَيْمَانَ الْقُرَشِيَّ ، قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ : فِيهِ مَقَالٌ ، وَذَكَرَهُ ابْنُ الْجَوْزِيِّ ، فَإِنْ كَانَا اثْنَيْنِ فَالْجَفْرِيُّ ثِقَةٌ وَالْحَدِيثُ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْخُطْبَةِ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس کے دل میں دنیا کی محبت ہو ، اسے تین چیزیں لاحق ہو جاتی ہیں ، ایسی بدنصیبی جس کی مشقت ختم نہیں ہوتی ، ایسی حرص جو خوشحالی تک نہیں پہنچتی ، اور ایسی امید جس کی کوئی آخری حد نہیں ہوتی ، دنیا طالب بھی ہے اور مطلوب بھی ، جو شخص دنیا طلب کرتا ہے اسے آخرت تلاش کرتی ہے ، یہاں تک کہ موت اس کے پاس آ کر اسے گرفت میں لے لیتی ہے ، اور جو شخص آخرت طلب کرتا ہے اسے دنیا تلاش کرتی ہے ، یہاں تک کہ وہ دنیا میں سے اپنا پورا رزق وصول کر لیتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد جبرون بن عیسیٰ مغربی کے حوالے سے ، یحیی بن سلیمان جفری کے حوالے سے فضیل بن عیاض سے نقل کی ہے ، میں جبرون سے واقف نہیں ہوں ، جہاں تک یحیی کا تعلق ہے تو امام ذہبی نے ” میزان الاعتدال “ میں یحیی بن سلیمان جعفی کے حالات کے آخر میں یہ بات ذکر کی ہے : جہاں تک اس کے ہم نام یحیی بن سلیمان جفری کا تعلق ہے ، تو مجھے اس کے بارے میں کسی حرج کا علم نہیں ہے ، اس کے بعد انہوں نے یحیی بن سلیمان قرشی کا ذکر کیا ہے ، ابونعیم نے کہا: ہے : اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اس کا ذکر ابن جوزی نے کیا ہے اگر تو یہ دو افراد ہیں ، تو پھر جفری ثقہ ہے اور یہ حدیث ، خطبہ کی شرط کے مطابق صحیح ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17827
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10328)»