مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ كَانَتْ نِيَّتُهُ وَهِمَّتُهُ لِلدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ . باب: جس شخص کی نیت ، یا توجہ کا مرکز ، دنیا ، یا آخرت ہو
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " رَحِمَ اللَّهُ مَنْ سَمِعَ مَقَالَتِي حَتَّى يُبَلِّغَهَا غَيْرَهُ : ثَلَاثٌ لَا يَغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ : إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ ، وَالنُّصْحُ لِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ ، وَاللُّزُومُ لِجَمَاعَتِهِمْ ; فَإِنَّ دُعَاءَهُمْ يُحِيطُ مِنْ وَرَائِهِمْ . إِنَّهُ مَنْ تَكُنِ الدُّنْيَا نِيَّتَهُ يَجْعَلِ اللَّهُ فَقْرَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ، وَيُشَتِّتْ عَلَيْهِ ضَيْعَتَهُ ، وَلَا يَأْتِيهِ مِنْهَا إِلَّا مَا كُتِبَ لَهُ . وَمَنْ تَكُنِ الْآخِرَةُ نِيَّتَهُ يَجْعَلُ اللَّهُ غِنَاهُ فِي قَلْبِهِ ، وَيَكْفِيهِ ضَيْعَتَهُ ، وَتَأْتِيهِ الدُّنْيَا وَهِيَ رَاغِمَةٌ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا . ¤سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے ، جو میری بات سنتا ہے اور اسے دوسرے تک پہنچا دیتا ہے تین چیزیں ایسی ہیں جن کے بارے میں مسلمان شخص کا دل کھوٹ کا شکار نہیں ہوتا ، عمل کا اللہ تعالیٰ کے لئے خالص ہونا ، مسلمان حکمرانوں کے لئے خیرخواہی اور ان ( مسلمانوں ) کی جماعت کے ساتھ رہنا ، کیونکہ ان کی دعا غیر موجود افراد پر بھی محیط ہوتی ہے ، جس شخص کی نیت دنیا ہو گی ، اللہ تعالیٰ اس کی غربت اس کی آنکھوں کے سامنے رکھ دے گا ، اور اس کے معاملات کو بکھیر دے گا اور دنیا میں سے صرف اتنا حصہ اس کے پاس آئے گا جو اس کے نصیب میں ہو گا ، اور جس شخص کی نیت آخرت ہو گی ، اللہ تعالیٰ اس کی خوشحالی اس کے دل میں ڈال دے گا اور اس کے معاملات کے حوالے سے اس کی کفایت کرے گا اور دنیا سرنگوں ہو کر اس کے پاس آئے گی ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔