مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ كَانَتْ نِيَّتُهُ وَهِمَّتُهُ لِلدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ . باب: جس شخص کی نیت ، یا توجہ کا مرکز ، دنیا ، یا آخرت ہو
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ كَانَتِ الدُّنْيَا هِمَّتَهُ وَسَدَمَهُ ، وَلَهَا يَشْخَصُ ، وَإِيَّاهَا يَنْوِي ; جَعَلَ اللَّهُ الْفَقْرَ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ، وَشَتَّتَ عَلَيْهِ ضَيْعَتَهُ ، وَلَمْ يَأْتِهِ مِنْهَا إِلَّا مَا كُتِبَ لَهُ . وَمَنْ كَانَتَ الْآخِرَةُ هِمَّتَهُوَسَدَمَهُ ، وَلَهَا يَشْخَصُ ، وَإِيَّاهَا يَنْوِي ; جَعَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - الْغِنَى فِي قَلْبِهِ ، وَجَمَعَ عَلَيْهِ ضَيْعَتَهُ ، وَأَتَتْهُ الدُّنْيَا وَهِيَ صَاغِرَةٌ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِسَنَدَيْنِ فِي أَحَدِهِمَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، وَفِي الْآخَرِ أَيُّوبُ بْنُ حَوْطٍ ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس شخص کی توجہ اور دلچسپی کا مرکز دنیا ہو گی ، وہ اسی کی طرف متوجہ رہے گا ، اسی کی نیت رکھے گا ، تو اللہ تعالیٰ غربت اس کی آنکھوں کے سامنے کر دے گا اور اس کے معاملات کو بکھیر دے گا ، اور دنیا میں سے صرف اتنا حصہ اس کے پاس آئے گا ، جو اس کے نصیب میں ہو گا ۔ اور جس شخص کی توجہ اور دلچسپی کا مرکز آخرت ہو گی ، اور وہ اسی کی طرف متوجہ رہے گا اور اسی کی نیت رکھے گا ، تو اللہ تعالیٰ خوشحالی اس کے دل میں ڈال دے گا ، اس کے معاملات سمیٹ دے گا اور دنیا سرنگوں ہو کر اس کے پاس آئے گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک میں ، ایک راوی داؤد بن محبر ہے اور دوسری میں ایک راوی ایوب بن حوط ہے اور یہ دونوں انتہائی ضعیف ہیں ۔