مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ كَانَتْ نِيَّتُهُ وَهِمَّتُهُ لِلدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ . باب: جس شخص کی نیت ، یا توجہ کا مرکز ، دنیا ، یا آخرت ہو
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَفَرَّغُوا مِنْ هُمُومِ الدُّنْيَا مَا اسْتَطَعْتُمْ ; فَإِنَّهُ مَنْ كَانَتِ الدُّنْيَا أَكْبَرَ هَمِّهِ أَفْشَى اللَّهُ ضَيْعَتَهُ ، وَجَعَلَ فَقْرَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ، وَمَنْ كَانَتِ الْآخِرَةُ أَكْبَرَ هَمِّهِ جَمَعَ اللَّهُ لَهُ أَمْرَهُ ، وَجَعَلَ غِنَاهُ فِي قَلْبِهِ ، وَمَا أَقْبَلَ عَبْدٌ بِقَلْبِهِ إِلَى اللَّهِ إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ قُلُوبَ الْمُؤْمِنِينَ تَفِدُ إِلَيْهِ بِالْوُدِّ وَالرَّحْمَةِ ، وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ خَيْرٍ إِلَيْهِ أَسْرَعَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ حَسَّانَ الْمَصْلُوبُ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جہاں تک تم سے ہو سکے ، دنیا کی پریشانیوں سے لاتعلق رہو ، کیونکہ جس شخص کی پریشانی کا سب سے بڑا مرکز دنیا ہو گی ، اللہ تعالیٰ اس کے معاملات کو پھیلا دے گا ، اور اس کی غربت کو اس کی آنکھوں کے سامنے کر دے گا اور جس شخص کی پریشانی کا سب سے بڑا مرکز آخرت ہو گی ، اللہ تعالیٰ اس کے معاملات کو سمیٹ دے گا ، اس کی خوشحالی اس کے دل میں ڈال دے گا اور جب بندہ اپنے دل کے ہمراہ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے دلوں کو محبت اور رحمت کے ہمراہ ، اس شخص کی طرف لے آتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر قسم کی بھلائی کی طرف جلدی لے آتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سعید بن حسان مصلوب ہے اور وہ کذاب ہے ۔