حدیث نمبر: 17790
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ فِي الصَّلَاةِ : " لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيًا مِنْ ذَهَبٍ لَابْتَغَى إِلَيْهِ ثَانِيًا ، وَلَوْ أُعْطِيَ ثَانِيًا لَابْتَغَى إِلَيْهِ ثَالِثًا ، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ صُبَيْحٍ أَبِي الْعَلَاءِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں یہ پڑھتے ہوئے سنا ہے : ” اگر ابن آدم کی سونے کی ایک وادی ہو ، تو وہ اس کے ہمراہ دوسری کا طلب گار ہو گا ، اگر اسے دوسری دیدی جائے ، تو وہ اس کے ہمراہ تیسری کا طلب گار ہو گا ، ابن آدم کے پیٹ کو صرف مٹی بھر سکتی ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف صبیح ابوالعلاء کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17790
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3634)»