حدیث نمبر: 17791
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ : " إِنَّ الرَّجُلَ لَا تَمْتَلِئُ نَفْسُهُ مِنَ الْمَالِ حَتَّى يَمْتَلِئَ مِنَ التُّرَابِ ، وَلَوْ كَانَ لِأَحَدِكُمْ وَادٍ مَلْآنَ مَا بَيْنَ أَعْلَاهُ إِلَى أَسْفَلِهِ أَحَبَّ أَنْ يُمْلَأَ لَهُ وَادٍ آخَرُ ، فَإِنْ مُلِئَ لَهُ الْوَادِي الْآخَرُ فَانْطَلَقَ فَوَجَدَ وَادِيًا آخَرَ قَالَ : أَمَا وَاللَّهِ لَوِ اسْتَطَعْتُ لَمَلَأْتُكَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ وَلَفْظُهُ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لَنَا : " إِنَّ أَحَدَكُمْ لَوْ كَانَ لَهُ وَادٍ مَلْآنُ مِنْ أَعْلَاهُ إِلَى أَسْفَلِهِ أَحَبَّ أَنْ يُمْلَأَ لَهُ وَادٍ آخَرُ " . وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ . ¤ وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ ، وَفِي إِسْنَادِ الْبَزَّارِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” آدمی کا نفس ، مال کے حوالے سے اس وقت تک نہیں بھرتا ، جب تک وہ مٹی سے نہیں بھر جاتا ، اگر تم میں سے کسی ایک کی ایسی دادی ہو ، جو اوپر سے لے کر نیچے تک بھری ہوئی ہو ، تو وہ شخص یہ خواہش کرے گا کہ اس کے لیے ایک اور بھری ہوئی وادی ہو ، اگر اسے ایک اور بھری ہوئی وادی مل جائے ، اور وہ ایک اور وادی کو پائے ، تو یہ کہے گا : اللہ کی قسم ! اگر میرے بس میں ہوتا ، تو میں نے تمہیں بھر دینا تھا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، ان کے الفاظ یہ ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے یہ فرمایا کرتے تھے : تم میں سے کسی ایک شخص کی ، اگر نیچے سے اوپر تک بھری ہوئی وادی ہو ، تو وہ شخص یہ پسند کرے گا کہ اس کے لیے ایک اور بھری ہوئی وادی ہو “ باقی روایت حسب سابق ہے ، طبرانی کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں اور بزار کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے اور وہ کذاب ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17791
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ موضوع
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3635) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7005)»