مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ لَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ . باب: ابن آدم کا پیٹ صرف مٹی بھر سکتی ہے
وَعَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ : هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ شَيْئًا إِذَا دَخَلَ الْبَيْتَ ؟ قَالَتْ : كَانَ إِذَا دَخَلَ الْبَيْتَ تَمَثَّلَ يَقُولُ : " لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ لَابْتَغَى وَادِيًا ثَالِثًا ، وَلَا يَمْلَأُ فَمَهُ إِلَّا التُّرَابُ ، وَمَا جَعَلْنَا الْمَالَ إِلَّا لِإِقَامِ الصَّلَاةِ ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّمَا جَعَلْنَا الْمَالَ لِتُقْضَى بِهِ الصَّلَاةُ ، وَتُؤْتَى بِهِ الزَّكَاةُ " . فَكُنَّا نَرَى أَنَّهُ مِمَّا نُسِخَ مِنَ الْقُرْآنِ . وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ ، وَلَكِنَّ يَحْيَى الْقَطَّانُ لَا يَرْوِي عَنْهُ مَا حَدَّثَ بِهِ فِي اخْتِلَاطِهِ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤مسروق بیان کرتے ہیں : میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر تشریف لاتے تھے تو کیا آپ کچھ کہتے تھے ؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا : آپ مثال بیان کرنے کے طور پر یہ فرماتے تھے : ” اگر ابن آدم کی مال کی دو دادیاں ہوں ، تو وہ تیسری وادی کا طلب گار ہو گا ، اور اس کے منہ کو صرف مٹی بھر سکتی ہے ، ہم نے مال اس لئے مقرر کیا ہے تاکہ نماز قائم کی جائے اور زکوۃ ادا کی جائے اور اللہ تعالیٰ اس شخص کی توبہ کو قبول کرتا ہے ، جو توبہ کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے اس کے آخر میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” ہم نے مال اس لیے بنایا ہے ، تاکہ اس کے ذریعے نماز ادا کی جائے اور اس کے ذریعے زکوۃ دی جائے ۔ “ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ہم یہ سمجھتے تھے کہ یہ کلمات قرآن کے منسوخ ہونے والے حصے میں سے ہیں ۔ یہ روایت امام بزار نے بھی نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا اور یحیی القطان اس کے حوالے سے ایسی روایت نقل نہیں کرتے ہیں جو اس نے اختلاط کا شکار ہونے کے دوران بیان کی تھی ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔