حدیث نمبر: 17780
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ كَانَ كُلَّمَا صَلَّى صَلَاةً جَلَسَ لِلنَّاسِ ، فَمَنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ كَلَّمَهُ وَإِلَّا قَامَ ، فَحَضَرْتُ الْبَابَ يَوْمًا فَقُلْتُ : يَا يَرْفَأُ ، فَخَرَجَ وَإِذَا عُثْمَانُ بِالْبَابِ ، فَخَرَجَ يَرْفَأُ ، فَقَالَ : قُمْ يَا ابْنَ عَفَّانَ ، قُمْ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَدَخَلْنَا عَلَى عُمَرَ وَعِنْدَهُ صُبُرٌ مِنْ مَالٍ . فَقَالَ : إِنِّي نَظَرْتُ فِي أَهْلِ الْمَدِينَةِ فَرَأَيْتُكُمَا مِنْ أَكْثَرِ أَهْلِهَا عَشِيرَةً ، فَخُذَا هَذَا الْمَالَ فَاقْسِمَاهُ ، فَإِنْ كَانَ فِيهِ فَضْلٌ فَرُدَّا ، قُلْتُ : وَإِنْ كَانَ نُقْصَانًا زِدْتَنَا ؟ فَقَالَ : شِنْشِنَةُ مِنْ أَخْشَنَ ، قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ مُحَمَّدًا وَأَهْلَهُ كَانُوا يَأْكُلُونَ الْقِدَّ ، قُلْتُ : بَلَى . وَاللَّهِ ، لَوْ فَتَحَ اللَّهُ هَذَا عَلَى مُحَمَّدٍ لَصَنَعَ فِيهِ غَيْرَ مَا صَنَعْتَ ، فَغَضِبَ وَانْتَشَجَ حَتَّى اخْتَلَفَتْ أَضْلَاعُهُ ، وَقَالَ : إِذًا صَنَعَ فِيهِ مَاذَا ؟ قُلْتُ : إِذًا أَكَلَ وَأَطْعَمَنَا ، فَسُرِّيَ عَنْهُ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جب بھی نماز ادا کر لیتے تھے تو لوگوں کے لئے بیٹھ جاتے تھے ، جس کو اُن سے کوئی کام ہوتا تھا ، اس کے ساتھ وہ بات چیت کر لیتے تھے ، ورنہ اُٹھ جاتے تھے ، ایک دن میں ان کے دروازے پر آیا ، میں نے کہا: پر یرفا ! وہ ( خادم ) نکل کر باہر آیا ، دروازے پر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے ، پھر یرفا باہر آیا اور اس نے کہا: اے ابن عفان ! آپ اُٹھ جائیں ، اے ابن عباس ! آپ اُٹھ جائیں ( یعنی آپ دونوں اندر تشریف لے آئیں ) ہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ان کے پاس مال کا ڈھیر موجود تھا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے اہل مدینہ کا جائزہ لیا ، تو میں نے یہ دیکھا کہ تم دونوں کے خاندان کے ( تمہارے زیر کفالت افراد ) زیادہ ہیں ، تو تم دونوں یہ مال لے لو اور اسے تقسیم کر لو ! اگر اس میں سے بیچ گیا ، تو وہ تم دونوں واپس کر دینا ، میں نے کہا: اگر یہ کم ہوا تو آپ ہمیں مزید دیں گے ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : پرانا کھردرا مشکیزہ ، میں یہ بات جانتا ہوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اُن کے اہل خانہ تھوڑی سی مقدار کھایا کرتے تھے ، میں نے کہا: جی ہاں ! اللہ کی قسم ! اگر اللہ تعالیٰ نے اتنی فتوحات سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کی ہوتیں ، تو انہوں نے اس بارے میں اس سے مختلف طرز عمل اختیار کرنا تھا جو آپ نے اختیار کیا ہے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ غصے میں آ گئے اور ان کا جسم لرزنے لگا ، انہوں نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کرنا تھا ؟ میں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی کھانا تھا اور ہمیں بھی کھلانا تھا ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا غصہ ختم ہو گیا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17780
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ جید
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3664)»