حدیث نمبر: 17781
وَعَنِ الْحَسَنِ : أَنَّ قَيْسَ بْنَ عَاصِمٍ لَمَّا قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " هَذَا سَيِّدُ أَهْلِ الْوَبَرِ " . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الْمَالُ الَّذِي لَا يَكُونُ عَلَيَّ فِيهِ تَبِعَةٌ مِنْ ضَيْفٍ ، أَوْ عِيَالٍ وَإِنْ كَثُرُوا ؟ قَالَ : " نِعْمَ الْمَالُ الْأَرْبَعُونَ ، وَإِنْ كَثُرَتْ فَسِتُّونَ ، وَيْلٌ لِأَصْحَابِ الْمِئِينَ - يَقُولُ ذَلِكَ ثَلَاثًا - إِلَّا مَنْ أَعْطَى فِي رِسْلِهَا وَنَجْدَتِهَا ، وَأَفْقَرَ ظَهْرَهَا ، وَأَطْرَقَ فَحْلَهَا ، وَنَحَرَ سَمِينَهَا ، وَمَنَحَ غَزِيرَتَهَا ، وَأَطْعَمَ الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَكْرَمَ هَذِهِ الْأَخْلَاقُ وَأَحْسَنَهَا ! قَالَ : " كَيْفَ تَصْنَعُ بِالْمَنِيحَةِ ؟ " . قَالَ : قُلْتُ : لَأَمْنَحُ كُلَّ سَنَةٍ مِائَةً ، قَالَ : " كَيْفَ تَصْنَعُ بِالْإِفْقَارِ ؟ " . قَالَ : إِنِّي لَا أُفْقِرُ الْبِكْرَ الضَّرْعَ ، وَلَا النَّابَ الْمُدَبَّرَةَ . قَالَ : " كَيْفَ تَصْنَعُ بِالطَّرُوقَةِ ؟ " . قُلْتُ : تَغْدُوَ الْإِبِلَ وَيَغْدُوَ النَّاسُ ، فَمَنْ شَاءَ أَخَذَ بِرَأْسِ بَعِيرٍ فَذَهَبَ بِهِ . قَالَ : " مَالُكَ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَمْ مَالُ مُوَالِيكَ ؟ " . قُلْتُ : لَا . بَلْ مَالِي ، قَالَ : " فَمَا لَكَ مِنْ مَالِكَ إِلَّا مَا أَكَلْتَ فَأَفْنَيْتَ ، أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ ، أَوْ أَعْطَيْتَ فَأَمْضَيْتَ " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَكَذَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : أَمَا وَاللَّهِ ، لَئِنْ بَقِيتُ لَأُقِلَّنَّ عَدَدَهَا . رَوَاهُ الْبَزَّارُ مُرْسَلًا ، وَقَدْ رَوَاهُ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ مُتَّصِلًا ، وَهُوَ مَذْكُورٌ فِي مَنَاقِبِهِ . ¤
محمد محی الدین

حسن بیان کرتے ہیں : سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ارشاد فرمایا : یہ دیہاتی علاقوں کا سردار ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس مال کا کیا ہو گا ؟ جس کے بارے میں مجھ پر کوئی ضرر ہو ، جس کا واسطہ مہمان یا عیال سے ہو ، خواہ وہ کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اچھا مال چالیس ( دینار یا درہم ہیں اور اگر وہ زیادہ ہو جائے ، تو ساٹھ ہو جائیں لیکن دو سو والوں کے لئے بربادی ہے ، یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ( اور پھر یہ فرمایا : ) البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ، جو تنگی اور خوشحالی ( ہر حال ) میں خرچ کرتا ہے ، اپنی سواری استعمال کے لئے دیتا ہے ، نر جانور کو جفتی کے لئے دیتا ہے ، صحت مند جانور کو قربان کرتا ہے اور اس کا دودھ عطیہ کے طور پر دیتا ہے اور قانع اور فقیر کو کھلاتا ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ اخلاق کتنے معزز اور کتنے عمدہ ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم عطیہ کیسے دیتے ہو ؟ میں نے عرض کی : میں ہر سال ایک سو ( جانور ) عطیہ کے طور پر دیتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم عارضی طور پر سواری کے استعمال کے لیے جانور کیسے دیتے ہو ؟ میں نے جواب دیا : میں دودھ دینے والا جوان جانور ، یا عمر رسیدہ اونٹنی نہیں دیتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : جفتی کے لیے جانور کیسے دیتے ہو ؟ میں نے جواب دیا : میرے اونٹ جاتے ہیں لوگ بھی جاتے ہیں ، جو شخص جس اونٹ کا چاہتا ہے ، سر پکڑ کر اسے لے جاتا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے دریافت کیا : تمہارا مال تمہارے نزدیک زیادہ محبوب ہے ؟ یا تمہارے موالی کا مال ( تمہارے نزدیک زیادہ محبوب ہے ؟ ) میں نے جواب دیا : جی نہیں ! بلکہ میرا مال ( میرے نزدیک زیادہ محبوب ہے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمہارے مال میں سے ، تمہارا حصہ وہ ہے جسے تم کھا کر فنا کر دو ، یا پہن کر پرانا کر دو یا ( اللہ کی راہ میں ) دے کر آگے بھیج دو ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! کیا اس طرح ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! تو انہوں نے عرض کی : اللہ کی قسم ! اگر میں زندہ رہ گیا تو میں ان کی تعداد میں ضرور کمی کروں گا ( یعنی اپنے مال کو اللہ کی راہ میں ضرور خرچ کروں گا ) ۔ یہ روایت امام بزار نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے انہوں نے اسے متصل روایت کے طور پر بھی نقل کیا ہے ، لیکن بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے اور
یہ روایت ان کے مناقب سے متعلق باب میں مذکور ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17781
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ مرسل
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3663)»