مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْإِنْفَاقِ وَالْإِمْسَاكِ . باب: خرچ کرنا اور روک کے رکھنا ( یعنی خرچ نہ کرنا )
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا عِنْدِي شَيْءٌ أُعْطِيكَ ، وَلَكِنِ اسْتَقْرِضْ حَتَّى يَأْتِيَنَا شَيْءٌ فَنُعْطِيكَ " . فَقَالَ عُمَرُ : مَا كَلَّفَكَ اللَّهُ هَذَا ، أَعْطَيْتَ مَا عِنْدَكَ ، فَإِذَا لَمْ يَكُنْ عِنْدَكَ فَلَا تُكَلَّفُ ، قَالَ : فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَوْلَ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - حَتَّى عُرِفَ فِي وَجْهِهِ . فَقَالَ الرَّجُلُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِأَبِي وَأُمِّي أَنْتَ ، فَأَعْطِ وَلَا تَخْشَ مِنْ ذِي الْعَرْشِ إِقْلَالًا . قَالَ : فَتَبَسَّمَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ : " بِهَذَا أُمِرْتُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحُنَيْنِيُّ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَقَالَ : يُخْطِئُ . ¤سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ( اس نے آپ سے کچھ مانگا ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرے پاس ابھی دینے کے لئے کچھ نہیں ہے ، تم قرض لے لو ، جب ہمارے پاس کچھ آئے گا ، تو ہم تمہیں ادائیگی کر دیں گے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا پابند نہیں کیا ہے ، آپ کے پاس اگر ہو تو عطا کر دیں ، اور جب آپ کے پاس نہ ہو ، تو آپ تکلف سے کام نہ لیں ، راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند نہیں آئی اور اس کا اندازہ آپ کے چہرہ مبارک سے ہو گیا ، تو ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ عطا کرتے رہیں اور عرش والی ذات کی طرف سے کسی کمی کا اندیشہ نہ رکھیں ، راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے اور آپ نے ارشاد فرمایا : ” مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم حنینی ہے جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے ۔