مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْإِنْفَاقِ وَالْإِمْسَاكِ . باب: خرچ کرنا اور روک کے رکھنا ( یعنی خرچ نہ کرنا )
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ عَلَى بِلَالٍ وَعِنْدَهُ صُبُرٌ مِنْ تَمْرٍ فَقَالَ : " مَا هَذَا ؟ " . قَالَ : أَدَّخِرُهُ ، قَالَ : " أَمَا تَخْشَى أَنْ تَرَى لَهُ بُخَارًا فِي نَارِ جَهَنَّمَ ، أَنْفِقْ بِلَالُ ، وَلَا تَخْشَ مِنْ ذِي الْعَرْشِ إِقْلَالًا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے ، اس وقت ان کے پاس کھجوروں کا ڈھیر موجود تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہ کہاں سے آئی ہیں ؟ انہوں نے عرض کی : یہ میں نے سنبھال کے رکھی ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تمہیں اس بات سے ڈر نہیں لگتا ؟ کہ تم اس کی وجہ سے جہنم کی آگ میں بخار ( یعنی تپش ) دیکھو ، تم عرش والی ذات کی طرف سے کمی کا اندیشہ نہ رکھو ۔
یہ روایت امام بزار ، امام ابویعلیٰ نے ، امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔