حدیث نمبر: 17777
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بِلَالٍ ، وَعِنْدَهُ صُبُرٌ مِنْ تَمْرٍ فَقَالَ : " مَا هَذَا يَا بِلَالُ ؟ " . قَالَ : أُعِدُّ ذَلِكَ لِأَضْيَافِكَ ، فَقَالَ : " أَمَا تَخْشَى أَنْ يَكُونَ لَهُ دُخَانٌ فِي نَارِ جَهَنَّمَ ، أَنْفِقْ بِلَالُ وَلَا تَخْشَ مِنْ ذِي الْعَرْشِ إِقْلَالًا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے ، ان کے پاس کھجوروں کا ڈھیر موجود تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے بلال ! یہ کہاں سے آئی ہیں ؟ انہوں نے عرض کی : یہ میں نے آپ کے مہمانوں کے لیے تیار رکھی ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تمہیں اس بات کا اندیشہ نہیں ہوا ؟ کہ اس کی وجہ سے جہنم میں دھواں ہو سکتا ہے ؟ اے بلال ! تم خرچ کرو ، اور عرش والی ذات کی طرف سے کسی کمی کا اندیشہ نہ رکھو !
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان دونوں کی سند حسن ہے ، البتہ امام طبرانی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” کیا تمہیں اس سے ڈر نہیں لگا کہ کہ یہ تمہارے لئے بخار ( یعنی تپش ) بن جائے ۔ “

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17777
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3653) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1020)»