حدیث نمبر: 17776
وَفِي رِوَايَةٍ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَطْعِمْنَا يَا بِلَالُ ، تَمْرًا " . فَقَبَضْتُ لَهُ قَبَضَاتٍ ، فَقَالَ : " زِدْنَا بِلَالُ " . فَزِدْتُهُ ثَلَاثًا فَقُلْتُ : لَمْ يَبْقَ شَيْءٌ إِلَّا شَيْءٌ ادَّخَرْتُهُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَنْفِقْ بِلَالُ ، وَلَا تَخْشَ مِنْ ذِي الْعَرْشِ إِقْلَالًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : وَعِنْدَهُ صُبُرٌ مِنْ مَالٍ . ¤ وَفِي رِوَايَةِ الطَّبَرَانِيِّ الْأُولَى وَالْبَزَّارِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زَبَالَةَ ، وَفِي الثَّانِيَةِ : طَلْحَةُ بْنُ زَيْدٍ الْقُرَشِيُّ ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ ، قَالَ الْبَزَّارُ : الصَّوَابُ فِيهِ عَنْ مَسْرُوقٍ ; أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ عَلَى بِلَالٍ .
محمد محی الدین

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے بلال ! ہمیں کھانے کے لیے کھجوریں دو ، تو انہوں نے کچھ مٹھیاں آپ کو دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے بلال ! ہمیں مزید دو ! سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے تین مرتبہ آپ کو مزید دیں ، پھر میں نے عرض کی : اب صرف وہ چیز باقی رہ گئی ہے ، جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سنبھال کے رکھی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے بلال ! تم خرچ کرو ، اور عرش والی ذات کی طرف سے کسی کمی کا اندیشہ نہ رکھو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کو اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” اُن کے پاس مال کا ڈھیر تھا ۔ “ امام طبرانی کی پہلی روایت میں اور امام بزار کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور دوسری روایت میں ایک راوی طلحہ بن زید قرشی ہے اور یہ دونوں ضعیف ہیں ، امام بزار کہتے ہیں : اس میں درست یہ ہے کہ مسروق سے یہ روایت منقول ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17776
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1098)»