مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْإِنْفَاقِ وَالْإِمْسَاكِ . باب: خرچ کرنا اور روک کے رکھنا ( یعنی خرچ نہ کرنا )
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْتَفَتَ إِلَى أُحُدٍ فَقَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، مَا يَسُرُّنِي أَنَّ أُحُدًا تَحَوَّلَ لِآلِ مُحَمَّدٍ ذَهَبًا أُنْفِقُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، أَمُوتُ يَوْمَ أَمُوتُ أَدَعُ مِنْهُ دِينَارَيْنِ إِلَّا دِينَارَيْنِ أُعِدُّهُمَا لِدَيْنٍ إِنْ كَانَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُحد پہاڑ کی طرف رخ کیا اور ارشاد فرمایا : ” اُس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ اُحد پہاڑ ، آل محمد کے لیے سونے میں تبدیل ہو جائے ، اور میں اُسے اللہ کی راہ میں خرچ کرتا رہوں ، اور جس دن میرا انتقال ہو ، تو میں نے اس میں سے دو دینار چھوڑے ہوں ، سوائے ان دو دیناروں کے ، جنہیں میں نے قرض کی ادائیگی کے لیے سنبھال کے رکھا ہو ، اگر ( کوئی قرض ) ہو ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ہلال بن خباب کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔