مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْإِنْفَاقِ وَالْإِمْسَاكِ . باب: خرچ کرنا اور روک کے رکھنا ( یعنی خرچ نہ کرنا )
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَنْ أَتَصَدَّقَ بِذَهَبٍ ، وَكَانَ عِنْدَهَا فِي مَرَضِهِ ، قَالَتْ : فَأَفَاقَ قَالَ : " مَا فَعَلْتِ ؟ " . قُلْتُ : شَغَلَنِي مَا رَأَيْتُ مِنْكَ ، قَالَ : " فَهَلُمَّ بِهَا " . قَالَ : فَجَاءَتْ بِهَا إِلَيْهِ سَبْعَةً أَوْ تِسْعَةً - أَبُو حَازِمٍ يَشُكُّ - دَنَانِيرَ . فَقَالَ حِينَ جَاءَتْ بِهَا : " مَا ظَنُّ مُحَمَّدٍ لَوْ لَقِيَ اللَّهَ وَهَذِهِ عِنْدَهُ ، وَمَا تَنْفِي هَذِهِ مِنْ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَوْ لَقِيَ اللَّهَ وَهَذِهِ عِنْدَهُ " . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ ہدایت کی کہ میں وہ سونا صدقہ کر دوں ، جو ان کے پاس موجود تھا ، یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے دوران کی بات ہے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت بہتر ہوئی ، تو آپ نے دریافت کیا : تم نے کیا کیا ؟ میں نے عرض کی : آپ کی طبیعت کی وجہ سے میں مصروف رہی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو اُسے لاؤ ! ( یہاں ابوحازم نامی راوی کو شک ہے ) وہ سات یا شاید نو دینار تھے ، جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا انہیں لے کر آئیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کا کیا گمان ہو گا ، اگر وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایسی حالت میں حاضر ہوتا ، کہ یہ اس کے پاس ہوتے ، اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی طرف سے کس نے اس کی نفی کرنی تھی ( یعنی علت پیش کرنی تھی ) کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوتا اور یہ اس کے پاس ہوتے ۔ “