مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْإِنْفَاقِ وَالْإِمْسَاكِ . باب: خرچ کرنا اور روک کے رکھنا ( یعنی خرچ نہ کرنا )
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ : أَنَّهُ جَاءَ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، فَأُذِنَ لَهُ وَبِيَدِهِ عَصًا ، فَقَالَ عُثْمَانُ : يَا كَعْبُ ، إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ مَاتَ ، وَتَرَكَ مَالًا ، فَمَا تَرَى فِيهِ ؟ فَقَالَ : إِنْ كَانَ قَضَى فِيهِ حَقَّ اللَّهِ فَلَا بَأْسَ عَلَيْهِ ، فَرَفَعَ أَبُو ذَرٍّ عَصَاهُ فَضَرَبَ كَعْبًا وَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا أُحِبُّ لَوْ أَنَّ هَذَا الْجَبَلَ لِي ذَهَبًا أُنْفِقُهُ وَيَتَقَبَّلُ مِنِّي أَذَرُ مِنْهُ خَلْفِي سِتَّ أَوَاقٍ " . أَنْشُدُكَ اللَّهَ يَا عُثْمَانُ ، سَمِعْتَهُ ؟ - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - قَالَ : نَعَمْ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ ، وَزَادَ : قَالَ كَعْبٌ : إِنِّي أَجِدُ فِي التَّوْرَاةِ الَّذِي حَدَّثْتُكُمْ ، قَالَ اللَّهُ : ( يَمْحُو اللَّهُ مَا يَشَاءُ ) إِلَى آخِرِ الْآيَةِ . قَالَ : " فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - مَحَاهُ ، وَإِنِّي أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ " . ¤سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت دی اُن کے ہاتھ میں عصا موجود تھا ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے کعب ! سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ہے ، انہوں نے مال چھوڑا ہے ، تو تم اس کے بارے میں کیا رائے دیتے ہو ؟ تو کعب نے جواب دیا : اگر انہوں نے اس مال کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حق کو ادا کر دیا تھا تو پھر ان پر کوئی حرج نہیں ہے ، سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے اپنا عصا اٹھایا اور وہ کعب کو مارا اور بولے : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ یہ پہاڑ میرے لیے سونے کا ہو جائے اور میں اُسے خرچ کرتا رہوں اور مجھ سے وہ لیا جاتا رہے اور پھر میں اس میں سے اپنے پیچھے چھ اوقیہ چھوڑ دوں ۔ “ ( پھر سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) اے سیدنا عثمان ! میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں ، کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے ؟ یہ بات انہوں نے تین مرتبہ دریافت کی ، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں !
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس کو ایک سے زیادہ افراد نے ضعیف قرار دیا ہے ، یہ روایت امام ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے اور انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” کعب نے کہا: میں نے ” تورات“ میں وہ بات پائی ہے ، جو آپ لوگوں کو بیان کی ہے اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ” اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہ مٹا دیتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ یہ آیت کے آخر تک ہے ۔ تو انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے اسے مٹا دیا ہے اور میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں ۔