مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْإِنْفَاقِ وَالْإِمْسَاكِ . باب: خرچ کرنا اور روک کے رکھنا ( یعنی خرچ نہ کرنا )
وَعَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ لِي أَبُو ذَرٍّ : يَا ابْنَ أَخِي ، كُنْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - آخِذًا بِيَدِهِ فَقَالَ لِي : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي أُحُدًا ذَهَبًا وَفِضَّةً أُنْفِقُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، أَمُوتُ يَوْمَ أَمُوتُ أَدَعُ مِنْهُ قِيرَاطًا " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قِنْطَارًا ؟ قَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، أَذْهَبُ إِلَى الْأَقَلِّ وَتَذْهَبُ إِلَى الْأَكْثَرِ ! أُرِيدُ الْآخِرَةَ وَتُرِيدُ الدُّنْيَا ، قِيرَاطًا " . فَأَعَادَهَا عَلَيَّ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي أَوَّلِهِ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَيْ جَبَلًا يَا أَبَا ذَرٍّ ، أَيُّ جَبَلٍ هَذَا ؟ " . قُلْتُ : أُحُدٌ . قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، مَا يَسُرُّنِي أَنَّهُ لِي ذَهَبًا قِطَعًا " . فَذَكَرَ نَحْوَهُ . وَإِسْنَادُ الْبَزَّارِ حَسَنٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا : ” اے میرے بھتیجے ! میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ تھاما ہوا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : اے ابوذر ! مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ اُحد پہاڑ میرے لیے سونے اور چاندی کا ہو جائے ، اور میں اُسے اللہ کی راہ میں خرچ کرتا رہوں ، یہاں تک کہ جس دن میرا انتقال ہو ، تو میں نے اس میں سے ایک قیراط چھوڑ دیا ہو ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ( ایک قیراط ، یا ) ایک قنطار ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابوذر ! میں تھوڑے کی طرف جا رہا ہوں اور تم زیادہ کی طرف جا رہے ہو ، میں آخرت چاہتا ہوں اور تم دنیا چاہتے ہو ( میں نے کہا: ہے : ) ایک قیراط ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ میرے سامنے اُسے دہرایا ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے تاہم انہوں نے اس کے آغاز میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہ کون سا پہاڑ ہے ؟ اے ابوذر ! یہ کون سا پہاڑ ہے ؟ میں نے جواب دیا : احد ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اُس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میرے پاس سونے کے ٹکڑے ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔ امام بزار کی سند حسن ہے ۔