مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي الْمَوَاعِظِ . باب: مواعظ کا مزید بیان
وَعَنْ أَبِي كَبْشَةَ قَالَ : لَمَّا كَانَتْ غَزْوَةُ تَبُوكَ تَسَارَعَ النَّاسُ إِلَى الْحِجْرِ لِيَدْخُلُوا فِيهِ ، فَنُودِيَ فِي النَّاسِ : إِنَّ الصَّلَاةَ جَامِعَةٌ ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ مُمْسِكٌ بَعِيرَهُ ، وَهُوَ يَقُولُ : " عَلَى مَا تَدْخُلُونَ عَلَى أَقْوَامٍ غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ ؟ " . قَالَ : فَنَادَاهُ رَجُلٌ : تَعْجَبُ مِنْهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَعْجَبَ مِنْ ذَلِكَ ؟ نَبِيُّكُمْ يُنْبِئُكُمْ بِمَا كَانَ قَبْلَكُمْ ، وَمَا هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكُمْ ، اسْتَقِيمُوا وَسَدِّدُوا ; فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَعْبَأُ بِعَذَابِكُمْ شَيْئًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيِّ مِنْ طَرِيقِ الْمَسْعُودِيِّ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤سیدنا ابوکبشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ” غزوہ تبوک کے موقع پر لوگ تیزی سے ” حجر “ ( یعنی قوم ثمود کی بستی ) کی طرف جانے لگے ، تاکہ اس میں داخل ہو جائیں ، تو لوگوں میں یہ اعلان کیا گیا : سب لوگ اکٹھے ہو جائیں ، راوی بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، آپ نے اپنے اونٹ کو پکڑا ہوا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا : تم کس بنیاد پر اس قوم کے علاقے میں داخل ہونا چاہتے ہو ، جن پر اللہ تعالیٰ نے غضب نازل کیا ، تو ان لوگوں میں سے ایک شخص نے حیرانگی کے اظہار کے طور پر آپ کو بلند آواز میں پکارا : یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں اس سے زیادہ حیران کن بات نہ بتاؤں ؟ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں اس چیز کے بارے میں بتاتے ہیں ، جو تم سے پہلے ہوئی ہے ، اور جو تمہارے بعد ہو گی ، تم لوگ مستقیم رہو اور سیدھے رہو ، کیونکہ تمہیں عذاب دینے کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کو کوئی پرواہ نہیں ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے مسعودی کے حوالے سے نقل کی ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔