حدیث نمبر: 17730
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : مَنْ يُرَاءِ يُرَاءِ اللَّهُ بِهِ ، وَمَنْ يُسَمِّعْ يُسَمِّعِ اللَّهُ بِهِ ، وَمَنْ تَطَاوَلَ تَعْظِيمًا يُخْفِضُهُ اللَّهُ ، وَمَنْ تَوَاضَعَ خَشْيَةً يَرْفَعُهُ اللَّهُ . وَالنَّاسُ مُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا مَقْتُورٌ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ ، وَمُقَتَّرٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَمُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ ، وَمُسْتَرِيحٌ وَمُسْتَرَاحٌ مِنْهُ . قُلْنَا : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَا الْمُسْتَرِيحُ وَالْمُسْتَرَاحُ مِنْهُ ؟ قَالَ : أَمَّا الْمُسْتَرِيحُ فَالْمُؤْمِنُ إِذَا مَاتَ اسْتَرَاحَ ، وَأَمَا الْمُسْتَرَاحُ مِنْهُ فَهُوَ الَّذِي يَظْلِمُ النَّاسَ وَيَغْتَابُهُمْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْمَسْعُودِيُّ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” جو شخص دکھاوا کرے گا ، اللہ تعالیٰ اس کے دکھاوے کو ظاہر کر دے گا ، جو شخص شہرت چاہے گا ، اللہ تعالیٰ اس کی شہرت کی طلب کو ظاہر کر دے گا ، جو شخص خود کو بڑا قرار دینے کے لئے نمایاں کرنا چاہے گا ، اللہ تعالیٰ اُسے پست کر دے گا ، جو شخص خشیت کی وجہ سے تواضع اختیار کرے گا ، اللہ تعالیٰ اسے بلندی نصیب کرے گا ۔ کچھ لوگوں کو دنیا میں کشادگی دی جاتی ہے ، انہیں آخرت میں تنگی ملے گی ، اور کچھ کو دنیا میں تنگی دی جاتی ہے ، انہیں آخرت میں کشادگی نصیب ہو گی ، کوئی شخص نجات پانے والا ہوتا ہے اور کسی سے نجات نصیب ہوتی ہے ، ہم نے کہا: اے ابوعبدالرحمن ! نجات پانے والے اور جس سے نجات نصیب ہوتی ہے اُن سے مراد کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : جہاں تک نجات پانے والے کا تعلق ہے ، تو اس سے مراد مؤمن ہے کہ جب وہ انتقال کر جاتا ہے ، تو وہ ( دنیا کی پریشانیوں کے حوالے سے ) نجات پا جاتا ہے ، جہاں تک اس فرد کا تعلق ہے ، جس سے نجات نصیب ہوتی ہے ، تو یہ وہ شخص ہے ، جو لوگوں پر ظلم کرتا ہے اور ان کی غیبت کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17730
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8512)»