حدیث نمبر: 17702
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، حَدِّثْنِي حَدِيثًا وَاجْعَلْهُ مُوجَزًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صَلِّ صَلَاةَ مُوَدِّعٍ ; فَإِنَّكَ إِنْ كُنْتَ لَا تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ ، أْيَسْ مِمَّا فِي أَيْدِي النَّاسِ تَكُنْ غَنِيًّا ، وَإِيَّاكَ وَمَا يُعْتَذَرُ مِنْهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کوئی بات ارشاد فرمائیے ، اور وہ مختصر ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم نماز یوں ادا کرو ، جیسے رخصت ہونے لگے ہو ، کیونکہ اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے ہو ، تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے ، اور جو کچھ لوگوں کے پاس ہے ، اُس کے حوالے سے مایوس ہو جاؤ ، تم خوشحال ہو جاؤ گے اور تم ہر ایسی چیز سے بچ کے رہو ، جس کے حوالے سے معذرت کرنی پڑے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17702
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (4588)»