مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابٌ جَامِعٌ فِي الْمَوَاعِظِ . باب: مواعظ کا مجموعہ
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يُشَرِّفُونَ الْمُتْرَفِينَ ، وَيَسْتَخِفُّونَ بِالْعَابِدِينَ ، وَيَعْمَلُونَ بِالْقُرْآنِ مَا وَافَقَ أَهْوَاءَهُمْ ، وَمَا خَالَفَ أَهْوَاءَهُمْ تَرَكُوهُ ، فَعِنْدَ ذَلِكَ يُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَابِ وَيَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ ، يَسْعَوْنَ فِيمَا يُدْرِكُونَ بِغَيْرِ سَعْيٍ مِنَ الْقَدَرِ الْمَقْدُورِ ، وَالْأَجَلِ الْمَكْتُوبِ ، وَالرِّزْقِ الْمَقْسُومِ ، وَلَا يَسْعَوْنَ فِيمَا لَا يُدْرَكُ إِلَّا بِالسَّعْيِ مِنَ الْجَزَاءِ الْمَوْفُورِ ، وَالسَّعْيِ الْمَشْكُورِ ، وَالتِّجَارَةِ الَّتِي لَا تَبُورُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ يَزِيدَ الرَّفَّاءُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لوگوں کا کیا معاملہ ہے ؟ کہ وہ مالداروں میں دلچسپی رکھتے ہیں ، اور عبادت گزاروں کو کمتر سمجھتے ہیں ، وہ قرآن کے ان احکام پر عمل کرتے ہیں ، جو ان کی خواہشات کے مطابق ہوں اور جو ان کی خواہشات کے برخلاف ہوں ، اسے چھوڑ دیتے ہیں ، تو ایسی صورتحال میں وہ کتاب کے کچھ حصے پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کے کچھ حصے کا انکار کرتے ہیں ، وہ ایسی چیز کے بارے میں کوشش کرتے ہیں ، جسے کوشش کے بغیر حاصل کیا جا سکتا ہے ، جس کا تعلق ، طے شدہ تقدیر اور تحریر ( یا لازم ) کی گئی مخصوص مدت اور تقسیم کئے گئے رزق کے ساتھ ہے ، لیکن وہ اس چیز کے بارے میں کوشش نہیں کرتے ، جسے صرف کوشش کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے ، جن کا تعلق بھرپور جزاء ، قبول کی گئی کوشش اور اس تجارت کے ساتھ ہے ، جس میں نقصان نہیں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن یزید رفاء ہے اور وہ ضعیف ہے ۔