مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابٌ جَامِعٌ فِي الْمَوَاعِظِ . باب: مواعظ کا مجموعہ
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى نَاقَتِهِ الْعَضْبَاءِ - وَلَيْسَتْ بِالْجَدْعَاءِ - فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، كَأَنَّ الْمَوْتَ فِيهَا عَلَى غَيْرِنَا كُتِبَ ، وَكَأَنَّ الْحَقَّ فِيهَا عَلَى غَيْرِنَا وَجَبَ ، وَكَأَنَّمَا نُشَيِّعُ مِنَ الْمَوْتَى سُفُرٌ عَمَّا قَلِيلٍ إِلَيْنَا رَاجِعُونَ ، نُبَوِّئُهُمْ أَجْدَاثَهُمْ ، وَنَأْكُلُ تُرَاثَهُمْ كَأَنَّكُمْ مُخَلَّدُونَ بَعْدَهُمْ ، قَدْ نَسِيتُمْ كُلَّ وَاعِظَةٍ ، وَأَمِنْتُمْ كُلَّ جَائِحَةٍ . طُوبَى لِمَنْ شَغَلَهُ عَيْبُهُ عَنْ عُيُوبِ النَّاسِ ، وَتَوَاضَعَ لِلَّهِ فِي غَيْرِ مَنْقَصَةٍ ، وَأَنْفَقَ مِنْ مَالٍ جَمَعَهُ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ ، وَخَالَطَ أَهْلَ الْفِقْهِ ، وَجَانَبَ أَهْلَ الشَّكِّ وَالْبِدْعَةِ ، وَصَلُحَتْ عَلَانِيَتُهُ ، وَعَزَلَ النَّاسَ عَنْ شَرِّهِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ النَّصْرُ بْنُ مُحْرِزٍ وَغَيْرُهُ مِنَ الضُّعَفَاءِ . ¤سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی ” عضباء “ پر ” جدعاء “ پر نہیں ، موجود رہتے ہوئے ، ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! ( یوں محسوس ہوتا ہے ) جیسے موت ہمارے علاوہ پر لازم قرار دی گئی ہے ، اور حق ہمارے علاوہ پر واجب ہوا ہے ، اور جن مردوں ( کے جنازوں ) کے ساتھ ہم چلتے ہیں ، وہ تھوڑا سا سفر ہے ، پھر ہم ان کو قبروں میں رکھ دیں گے اور ان کی وراثت کھا لیں گے ، اور گویا تم نے ان کے بعد ہمیشہ زندہ رہنا ہے ، تم نصیحت کرنے والی ہر چیز بھول چکے ہو ، اور ہلاک کرنے والی ہر چیز سے ( خود کو ) محفوظ سمجھے ہوئے ہو ، اس شخص کے لئے مبارکباد ہے ، جس کے ذاتی عیوب اُسے لوگوں کی عیب چینی سے محفوظ رکھیں ، اور وہ کوئی کمی کیے بغیر اللہ تعالیٰ کے لیے تواضع اختیار کرے ، اور وہ اس مال میں سے خرچ کرے ، جو اس نے معصیت کے علاوہ ( یعنی حلال طریقے سے ) کمایا ہو ، وہ اہل علم کے ساتھ میل جول رکھے ، اور شک کرنے والوں اور بدعتیوں سے لاتعلق رہے ، اُس کا ظاہر ٹھیک ہو ، اور وہ اپنی ذات کے شر کے حوالے سے ، لوگوں سے الگ تھلگ رہے ( یعنی لوگ اس کے شر سے محفوظ ہوں ) ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نضر بن محرز ہے اور اس کے علاوہ دیگر ضعیف راوی بھی ہیں ۔