حدیث نمبر: 17699
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَا بَنِي هَاشِمٍ ، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، يَا صَفِيَّةُ ، عَمَّةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَا فَاطِمَةُ ، بِنْتَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا أَعْرِفَنَّ مَا جَاءَ النَّاسُ غَدًا يَحْمِلُونَ الْآخِرَةَ ، وَجِئْتُمْ تَحْمِلُونَ الدُّنْيَا ، إِنَّمَا أَوْلِيَائِي مِنْكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُتَّقُونَ ، إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ مُسْتَصْبِحٍ فِي قَوْمِهِ أَتَاهُمْ فَقَالَ : يَا قَوْمِ ، أَتَيْتُمْ غَشَيْتُمْ ، وَاصَبَاحَاهُ ، أَنَا النَّذِيرُ ، وَالْمَوْتُ الْمُغِيرُ ، وَالسَّاعَةُ الْمَوْعِدُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْوَقَارُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے بنو ہاشم ! اے بنو عبدالمطلب ! اے صفیہ ! جو اللہ کے رسول کی پھوپھی ہیں ، اے محمد کی صاحبزادی فاطمہ ! میں یہ صورتحال نہ پاؤں کہ کل ( قیامت کے دن ) لوگ آئیں ، تو انہوں نے آخرت اٹھائی ہوئی ہو ، اور تم آؤ ، تو تم نے دنیا اٹھائی ہوئی ہو ، قیامت کے دن تم میں سے میرے ساتھی پرہیزگار لوگ ہوں گے ، میری اور تمہاری مثال ایسے شخص کی مانند ہے ، جو اپنی قوم میں آ کر ان سے یہ کہتا ہے : اے میری قوم ! خطرہ تمہارے سر پر پہنچنے والا ہے ، خطرے کی بات ہے ، میں ڈرانے والا ہوں ، موت برباد کر دینے والی ہے ، اور قیامت کا وعدہ ہے ( یعنی قیامت طے شدہ ہے ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زکریا بن یحیی وقار ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْا

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17699
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (86)»