حدیث نمبر: 17698
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ - فِيمَا يَعْلَمُ أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِيَّاكُمْ وَمُحَقِّرَاتِ الذُّنُوبِ ; فَإِنَّ مِثْلَ مُحَقِّرَاتِ الذُّنُوبِ كَقَوْمٍ نَزَلُوا بَطْنَ وَادٍ ، فَجَاءَ ذَا بِعُودٍ ، وَجَاءَ ذَا بِعُودٍ ، حَتَّى أَنْضَجُوا خُبْزَتَهُمْ ، وَإِنَّ مُحَقِّرَاتِ الذُّنُوبِ مَتَى يُؤْخَذُ بِهَا صَاحِبُهَا تُهْلِكُهُ " . ¤ وَقَالَ أَبُو حَازِمٍ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : - قَالَ أَبُو ضَمْرَةَ : وَلَا أَحْسَبُهُ إِلَّا عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ - قَالَ : " مَثَلِي وَمَثَلُ السَّاعَةِ كَهَاتَيْنِ " . وَفَرَّقَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ الْوُسْطَى وَالَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ ، ثُمَّ قَالَ : " مَثَلِي وَمَثَلُ السَّاعَةِ كَمَثَلِ رَجُلٍ بَعَثَهُ قَوْمُهُ طَلِيعَةً ، فَلَمَّا خَشِيَ أَنْ يُسْبَقَ أَلَاحَ بِثَوْبِهِ : أَتَيْتُمْ أَتَيْتُمْ " . ثُمَّ يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنَا ذَاكَ " . رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

انس بن عیاض نامی راوی کا یہ کہنا ہے : سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم حقیر گناہوں کے ارتکاب سے بچ کے رہو ، کیونکہ حقیر گناہوں کی مثال ، ان لوگوں کی مانند ہے ، جو کسی وادی کے نشیبی حصے میں پڑاؤ کرتے ہیں ، پھر ایک شخص ایک لکڑی لے کر آتا ہے ، ایک شخص ایک لکڑی لے کر آتا ہے ، یہاں تک کہ وہ ( ان لکڑیوں کو جلا کر ) روٹی پکا لیتے ہیں ، حقیر گناہوں کو کرنے والے کی بھی ، جب ان گناہوں کے حوالے سے گرفت ہو گی ، تو وہ گناہ اس شخص کو ہلاکت کا شکار کر دیں گے ۔ “ ابوحازم بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ابوضمرہ نامی راوی بیان کرتے ہیں ، میرا خیال ہے
یہ روایت ، سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ) ” میری اور قیامت کی مثال ، ان دو کی مانند ہے “ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے درمیانی انگلی اور انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی کو الگ کر کے ( یعنی ان دونوں انگلیوں کے ذریعے اشارہ کر کے ) یہ بات ارشاد فرمائی ، پھر آپ نے فرمایا : ” میری اور قیامت کی مثال ، اُس شخص کی مانند ہے ، جسے اس کی قوم صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے آگے بھیجتی ہے ، اور جب اس شخص کو یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ کہیں ( خطرہ اُس کی قوم تک ) اس سے پہلے نہ پہنچ جائے ، تو وہ اپنا کپڑا لہرا کر یہ کہتا ہے : ( خطرہ ) تم تک پہنچنے والا ہے ، تم تک پہنچنے والا ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں وہ فرد ہوں“ ۔ یہ پوری روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17698
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح