حدیث نمبر: 17697
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَسَمَ بَيْنَكُمْ أَخْلَاقَكُمْ كَمَا قَسَمَ بَيْنَكُمْ أَرْزَاقَكُمْ ، وَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يُعْطِي الدُّنْيَا مَنْ يُحِبُّ وَمَنْ لَا يُحِبُّ ، وَلَا يُعْطِي الدِّينَ إِلَّا مَنْ أَحَبَّ ، فَمَنْ أَعْطَاهُ اللَّهُ الدِّينَ فَقَدْ أَحَبَّهُ . وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَا يُسْلِمُ عَبْدٌ حَتَّى يَسْلَمَ قَلْبُهُ لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَلَا يُؤْمِنُ حَتَّى يَأْمَنَ جَارُهُ بَوَائِقَهُ " . قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا بَوَائِقُهُ ؟ قَالَ : " غَشْمُهُ ، وَظُلْمُهُ ، وَلَا يَكْسِبُ عَبْدٌ مَالًا مِنْ حَرَامٍ فَيُنْفِقُ فِيهِ ، فَيُبَارَكُ لَهُ فِيهِ ، وَلَا يَتَصَدَّقُ بِهِ فَيُقْبَلُ مِنْهُ ، وَلَا يَتْرُكُهُ خَلْفَ ظَهْرِهِ إِلَّا كَانَ زَادَهُ إِلَى النَّارِ . إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَا يَمْحُو السَّيِّئِ بِالسَّيِّئِ وَلَكِنْ يَمْحُو السَّيِّئَ بِالْحَسَنِ ، إِنَّ الْخَبِيثَ لَا يَمْحُو الْخَبِيثَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا ، وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے درمیان اخلاق اسی طرح تقسیم کیے ہیں ، جس طرح اس نے تمہارے درمیان رزق تقسیم کیا ہے ، اللہ تعالیٰ دنیا اس شخص کو بھی دیتا ہے ، جسے وہ پسند کرتا ہے ، اور اسے بھی دیتا ہے جسے وہ پسند نہیں کرتا ہے ، لیکن وہ دین صرف اس کو دیتا ہے جسے وہ پسند کرتا ہے ، تو جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے دین عطا کیا ہو ، تو اللہ تعالیٰ اسے پسند کرتا ہے ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، بندہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوتا ، جب تک اس کا دل اور اس کی زبان اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار نہ ہو جائیں ، اور بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہوتا ، جب تک اس کا پڑوی اس کی زیادتیوں سے محفوظ نہ ہو ، راوی کہتے ہیں : ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کی زیادتیوں سے مراد کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : اس کا دھوکہ دینا ، اس کا ظلم کرنا ۔ “ ” ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا : ) جو بندہ حرام طور پر مال کما کر ، اس میں سے خرچ کرتا ہے ، اس بندے کے لیے اس مال میں برکت نہیں رکھی جاتی ہے اور اگر وہ اس کو صدقہ کرتا ہے ، تو اس کی طرف سے وہ قبول نہیں ہوتا ہے ، اور اگر وہ اس مال کو اپنے پیچھے چھوڑ کر جاتا ہے ، تو وہ مال جہنم کی طرف جانے کے لیے اس کا زاد سفر ہوتا ہے ، بے شک اللہ تعالیٰ برائی کو ، برائی کے ذریعے نہیں مٹاتا ہے بلکہ وہ اچھائی کے ذریعے برائی کو مٹاتا ہے ، خبیث چیز ، خبیث کو نہیں مٹاتی ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اور اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17697
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (3672)»