حدیث نمبر: 17696
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْيَوْمَ الرِّهَانُ وَغَدًا السِّبَاقُ ، وَالْغَايَةُ الْجَنَّةُ أَوِ النَّارُ ، وَالْهَالِكُ مَنْ دَخَلَ النَّارَ . أَنَا الْأَوَّلُ وَأَبُو بَكْرٍ الْمُصَلِّي ، وَعُمَرُ الثَّالِثُ ، وَالنَّاسُ بَعْدِي عَلَى السَّبْقِ ، الْأَوَّلُ فَالْأَوَّلُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ أَصْرَمُ بْنُ حَوْشَبٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَفِي إِسْنَادِ الْأَوْسَطِ الْوَلِيدُ بْنُ الْفَضْلِ الْعَنْزِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم علی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” آج دوڑ میں حصہ لینے کا دن ہے اور کل نتیجہ کا دن ہو گا ، اور انجام جنت یا جہنم ہو گی ، وہ شخص ہلاکت کا شکار ہو گا ، جو جہنم میں داخل ہو گا ، میں سبقت لے جانے والا ہوں ، ابوبکر اس کے بعد والا ہے ، عمر اس کے بعد والا ہے ، اور دوسرے لوگ درجہ بدرجہ ہمارے پیچھے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اصرم بن حوشب ہے اور وہ متروک ہے ، معجم اوسط کی سند میں ایک راوی ولید بن فضل عنزی ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17696
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (609) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12645)»