مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا خَافَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ . باب: جب آدمی کو اس حوالے سے اندیشہ ہو ، تو وہ کیا پڑھے ؟
وَعَنْ حُذَيْفَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ - إِمَّا حَضَرَ حُذَيْفَةُ ذَلِكَ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَإِمَّا أَخْبَرَهُ أَبُو بَكْرٍ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الشِّرْكُ فِيكُمْ أَخْفَى مِنْ دَبِيبِ النَّمْلِ " . قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَهَلَ الشِّرْكُ إِلَّا مَا عُبِدَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ، أَوْ مَا دُعِيَ مَعَ اللَّهِ ؟ ! - شَكَّ عَبْدُ الْمَلِكِ - قَالَ : " ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا صِدِّيقُ ، الشِّرْكُ فِيكُمْ أَخْفَى مِنْ دَبِيبِ النَّمْلِ ، أَلَا أُخْبِرُكَ بِقَوْلٍ يُذْهِبُ صِغَارَهُ وَكِبَارَهُ - أَوْ صَغِيرَهُ وَكَبِيرَهُ - ؟ " . قُلْتُ : بَلَى . يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " تَقُولُ كُلَّ يَوْمٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أُشْرِكَ بِكَ شَيْئًا وَأَنَا أَعْلَمُهُ ، وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا لَا أَعْلَمُ ، وَالشِّرْكُ أَنْ تَقُولَ : أَعْطَانِي اللَّهُ وَفُلَانٌ ، وَالنِّدُّ أَنْ يَقُولَ الْإِنْسَانُ : لَوْلَا فُلَانٌ قَتَلَنِي فُلَانٌ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى مِنْ رِوَايَةِ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، وَلَيْثٌ مُدَلِّسٌ ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ إِنْ كَانَ هُوَ الَّذِي رَوَى عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَوِ الَّذِي رَوَى عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، فَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَهُمَا فَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے ، شاید سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بھی اُس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، یا شاید سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ بات بتائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تم میں شرک چیونٹی کے رینگنے سے زیادہ پوشیدہ ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! شرک تو صرف وہ ہوتا ہے کہ جو اللہ کو چھوڑ کر کسی کی عبادت کی جائے ( عبدالملک نامی راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) اللہ کے ہمراہ کسی اور کو پکارا جائے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے صدیق ! تمہاری ماں تمہیں روئے ، تم لوگوں میں شرک چیونٹی کے رینگنے سے زیادہ پوشیدہ ہو گا ، کیا میں تمہیں اس کلمے کے بارے میں بتاؤں جو چھوٹے اور بڑے ( شرک کو ) رخصت کر دے گا ( یہاں لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ، لیکن اس کا مفہوم یہی ہے ) میں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم روزانہ تین مرتبہ یہ پڑھا کرو : ” اے اللہ ! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں جانتے بوجھتے ہوئے کسی کو تیرا شریک قرار دوں اور اس چیز کے حوالے سے تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں ، جس کا مجھے علم نہ ہو ۔ “ ” شرک “ یہ ہے کہ تم یہ کہو : اللہ تعالیٰ نے اور فلاں نے مجھے دیا ۔ ” ند “ یہ ہے : کہ انسان یہ کہے : اگر فلاں نہ ہوتا ، تو فلاں نے مجھے قتل کر دینا تھا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے لیث بن ابوسلیم کی ابومحمد کے حوالے سے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، لیث نامی راوی مدلس ہے ، اور ابومحمد نامی راوی اگر تو وہ ہے ، جو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کرتا ہے ، یا اگر وہ ہے جو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کرتا ہے ، تو پھر ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور اگر یہ ان دونوں کے علاوہ کوئی اور ہے ، تو میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔