مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا خَافَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ . باب: جب آدمی کو اس حوالے سے اندیشہ ہو ، تو وہ کیا پڑھے ؟
عَنْ أَبِي عَلِيٍّ - رَجُلٍ مِنْ بَنِي كَاهِلٍ - قَالَ : خَطَبَنَا أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، اتَّقُوا هَذَا الشِّرْكَ ; فَإِنَّهُ أَخْفَى مِنْ دَبِيبِ النَّمْلِ . فَقَامَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَزْنٍ ، وَقَيْسُ بْنُ الْمُضَارِبِ ، فَقَالَا : وَاللَّهِ ، لَتَخْرُجَنَّ مِمَّا قُلْتَ ، أَوْ لَنَأْتِيَنَّ عُمَرَ مَأْذُونًا لَنَا ، أَوْ غَيْرَ مَأْذُونٍ . فَقَالَ : بَلْ أَخْرُجُ مِمَّا قُلْتُ ، خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، اتَّقُوا هَذَا الشِّرْكَ ; فَإِنَّهُ أَخْفَى مِنْ دَبِيبِ النَّمْلِ " . فَقَالَ لَهُ مَنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ : وَكَيْفَ نَتَّقِيهِ ، وَهُوَ أَخْفَى مِنْ دَبِيبِ النَّمْلِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ! قَالَ : " قُولُوا : اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ نُشْرِكَ بِكَ شَيْئًا نَعْلَمُهُ ، وَنَسْتَغْفِرُكَ لِمَا لَا نَعْلَمُهُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي عَلِيٍّ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤ابوعلی ، جن کا تعلق بنو کاہل سے ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! اس شرک سے بچنے کی کوشش کرو ، کیونکہ یہ چیونٹی کے رینگنے سے زیادہ خفی ہے ، تو عبداللہ بن حزن اور قیس بن مضارب ان کے سامنے کھڑے ہوئے ، اور ان دونوں نے یہ کہا: اللہ کی قسم ! یا تو آپ اپنی کہی ہوئی بات کا ثبوت پیش کریں گے ، یا پھر ہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس چلے جائیں گے ، خواہ ہمیں اجازت ملے یا ہمیں اجازت نہ ملے ، سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں اپنی کہی ہوئی بات کا ثبوت دیتا ہوں ، ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! اس شرک سے بچ کے رہنا ، کیونکہ یہ چیونٹی کے رینگنے سے زیادہ خفی ہے ، تو جس کے بارے میں اللہ کو منظور تھا اس شخص نے آپ کی خدمت میں عرض کی : ہم اُس سے کیسے بچ سکتے ہیں ؟ جبکہ یہ چیونٹی کے رینگنے سے زیادہ خفی ہے ، یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم یہ پڑھو : ” اے اللہ ! بے شک ہم اس بات سے تیری پناہ مانگتے ہیں کہ ہم علم رکھتے ہوئے کسی کو ( تیرا ) شریک قرار دیں اور اس حوالے سے تجھ سے مغفرت طلب کرتے ہیں ، جس کے بارے میں ہمیں علم نہ ہو ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابوعلی کا معاملہ مختلف ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔