مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الرِّيَاءِ . باب: ریاکاری کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمُ الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ ؟ قَالَ : " الرِّيَاءُ . يُقَالُ لِمَنْ يَفْعَلُ ذَلِكَ إِذَا جَاءَ النَّاسُ بِأَعْمَالِهِمْ : اذْهَبُوا إِلَى الَّذِينَ كُنْتُمْ تُرَاؤُونَ فَاطْلُبُوا ذَلِكَ عِنْدَهُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَبِيبِ بْنِ خَالِدٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تم لوگوں کے بارے میں ، مجھے سب سے زیادہ اندیشہ چھوٹے شرک کے حوالے سے ہے ، لوگوں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! چھوٹے شرک سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ریاکاری ، جو شخص ایسا کرے گا ، جب لوگ اپنے اعمال لے کے آئیں گے ، تو اس سے کہا: جائے گا : تم ان کی طرف چلے جاؤ ، جن کے لیے تم دکھاوا کیا کرتے تھے اور ان کا اجر ان سے طلب کرو ! “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن شبیب بن خالد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔