کتب حدیث › مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب › باب: ریاکاری کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
❮
❯
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بَشِّرْ هَذِهِ الْأُمَّةَ بِالسَّنَاءِ وَالرِّفْعَةِ ، وَالدِّينِ وَالنَّصْرِ وَالتَّمْكِينِ فِي الْأَرْضِ . - وَهُوَ يَشُكُّ فِي الثَّالِثَةِ - قَالَ : فَمَنْ عَمِلَ مِنْهُمْ عَمَلَ الْآخِرَةِ لِلدُّنْيَا لَمْ يَكُنْ لَهُ فِي الْآخِرَةِ نَصِيبٌ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُهُ مِنْ طُرُقٍ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین
سیدنا ابی بن کعب روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس امت کو چمک ، بلندی ، دین ، مدد ، زمین میں حکومت کی خوشخبری دیدو ( تیسری چیز کے بارے میں راوی کو شک ہے ) اُن لوگوں میں سے ، جو شخص آخرت سے متعلق عمل کو ، دنیا کے لئے کرے گا ، اُس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے اور ان کے صاحبزادے نے مختلف طرق کے ساتھ نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17646
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (134/5) ، أخرجه مسند أحمد برقم: 20715، 20717، وأخرجه المستدرك على الصحيحين برقم: 7932»
وَعَنِ الْجَارُودِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ طَلَبَ الدُّنْيَا بِعَمَلِ الْآخِرَةِ طُمِسَ وَجْهُهُ ، وَمُحِقَ ذِكْرُهُ ، وَأُثْبِتَ اسْمُهُ فِي النَّارِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ .
محمد محی الدین
سیدنا جارود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص آخرت سے متعلق عمل کے ذریعے ، دنیا طلب کرے گا ، اس کے چہرے کو بجھا دیا جائے گا اور اس کے ذکر کو مٹا دیا جائے گا اور اس کا نام جہنم میں ثبت کر دیا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17647
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2128) ، أخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 2128»
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ تَزَيَّنَ بِعَمَلِ الْآخِرَةِ ، وَهُوَ لَا يُرِيدُهَا ، وَلَا يَطْلُبُهَا لُعِنَ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرَضِينَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى التَّيْمِيُّ ، وَهُوَ كَذَّابٌ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص آخرت سے متعلق عمل کے ذریعے آراستگی اختیار کرے اور وہ آخرت کا ارادہ نہ رکھتا ہو ، یا وہ آخرت کا طلبگار نہ ہو ، تو آسمانوں اور زمینوں میں اُس پر لعنت کی جاتی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن یحیی تیمی ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17648
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ موضوع
وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يُؤْمَرُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِنَاسٍ مِنَ النَّاسِ إِلَى الْجَنَّةِ حَتَّى إِذَا دَنَوْا مِنْهَا ، وَاسْتَنْشَقُوا رِيحَهَا ، وَنَظَرُوا إِلَى قُصُورِهَا ، وَمَا أَعَدَّ اللَّهُ لِأَهْلِهَا فِيهَا ، نُودُوا : أَنِ اصْرِفُوهُمْ عَنْهَا لَا نَصِيبَ لَهُمْ فِيهَا ، فَيَرْجِعُونَ بِحَسْرَةٍ مَا رَجَعَ الْأَوَّلُونَ بِمِثْلِهَا ، فَيَقُولُونَ : رَبَّنَا ، لَوْ أَدْخَلْتَنَا النَّارَ قَبْلَ أَنْ تُرِيَنَا مَا أَرَيْتَنَا مِنْ ثَوَابِكَ ، وَمَا أَعْدَدْتَ فِيهَا لِأَوْلِيَائِكَ ; كَانَ أَهْوَنَ عَلَيْنَا ، قَالَ : ذَاكَ أَرَدْتُ بِكُمْ ، كُنْتُمْ إِذَا خَلَوْتُمْ بَارَزْتُمُونِي بِالْعَظَائِمِ ، وَإِذَا لَقِيتُمُ النَّاسَ لَقِيتُمُوهُمْ مُخْبِتِينَ تُرَاؤُونَ النَّاسَ بِخِلَافِ مَا تُعْطُونِي مِنْ قُلُوبِكُمْ ، هِبْتُمُ النَّاسَ وَلَمْ تَهَابُونِي ، أَجْلَلْتُمُ النَّاسَ وَلَمْ تُجِلُّونِي ، وَتَرَكْتُمْ لِلنَّاسِ وَلَمْ تَتْرُكُوا لِي ، فَالْيَوْمَ أُذِيقُكُمْ أَلِيمَ الْعَذَابِ مَعَ مَا حَرَمْتُكُمْ مِنَ الثَّوَابِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو جُنَادَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ .
محمد محی الدین
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن کچھ لوگوں کو جنت کی طرف جانے کا حکم دیا جائے گا ، یہاں تک کہ جب وہ لوگ اس کے قریب پہنچ جائیں گے ، اور اس کی خوشبو کو محسوس کریں گے اور اس کے محلات کو دیکھیں گے اور اس میں موجود ان چیزوں کو دیکھیں گے ، جو اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کے لیے تیار کی ہیں ، تو انہیں پکار کر یہ کہا: جائے گا : تم اس ( جنت کے قریب کے مقام ) سے پھر جاؤ ! ان لوگوں کا اس جنت میں کوئی حصہ نہیں ہو گا ، تو وہ لوگ ایسی حسرت کے ہمراہ پلٹ جائیں گے ، کہ پہلے کے لوگ اس طرح کی حسرت کے ہمراہ واپس نہیں گئے ہوں گے ، وہ لوگ کہیں گے : اے ہمارے پروردگار ! تو نے اپنا جو ثواب ہمیں دکھایا ہے ، اور اس میں تو نے اپنے دوستوں کے لئے جو کچھ تیار کیا ہے ، اگر تو وہ ہمیں دکھانے سے پہلے ، تو ہمیں جہنم میں داخل کر دیتا ، تو یہ ہمارے لئے زیادہ آسان ہونا تھا ، پروردگار فرمائے گا : میں تمہارے بارے میں یہی ارادہ رکھتا تھا ، جب تم لوگ خلوت میں ہوتے تھے ، تو تم بڑی بڑی باتوں کے ذریعے مجھے للکارتے تھے ، اور جب تم لوگوں سے ملتے تھے تو تم تواضع کا اظہار کرتے تھے ، تم لوگوں کے سامنے اس چیز کا دکھاوا کرتے تھے جو اس چیز کے برخلاف تھی ، جو تم اپنے دلوں کے حوالے سے مجھے دیتے تھے ، تم لوگوں سے ڈرتے رہے اور تم مجھ سے نہیں ڈرے ، تم نے لوگوں کا احترام کیا اور تم نے میرا احترام نہیں کیا ، تم نے لوگوں کے لئے ترک کر دیا اور میرے لئے ترک نہیں کیا ، آج میں تمہیں دردناک عذاب چکھاؤں گا اور یہ اس کے ہمراہ ہو گا ، جو میں نے تمہیں ثواب سے محروم رکھا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابوجنادہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17649
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (85/17) ، أخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 5474»
وَعَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : جِئْتُ أَبِي فَقَالَ لِي : أَيْنَ كُنْتَ ؟ فَقُلْتُ : وَجَدْتُ أَقْوَامًا مَا رَأَيْتُ خَيْرًا مِنْهُمْ ، يَذْكُرُونَ اللَّهَ فَيَرْعَدُ أَحَدُهُمْ حَتَّى يُغْشَى عَلَيْهِ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ ، فَقَعَدْتُ مَعَهُمْ ، قَالَ : لَا تَقْعُدْ مَعَهُمْ بَعْدَهَا ، فَرَآنِي كَأَنَّهُ لَمْ يَأْخُذْ ذَلِكَ فِي ، فَقَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابُهُ يَتْلُونَ الْقُرْآنَ ، فَلَا يُصِيبُهُمْ هَذَا ، أَفَتَرَاهُمْ أَخْشَعُ لِلَّهِ مِنْ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ؟ ! فَرَأَيْتُ أَنَّ ذَلِكَ كَذَلِكَ فَتَرَكْتُهُمْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ .
محمد محی الدین
عامر بن عبداللہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : میں اپنے والد کے پاس آیا ، انہوں نے مجھ سے دریافت کیا : تم کہاں تھے ؟ میں نے جواب دیا : میں نے کچھ لوگوں کو پایا ہے ، میں نے ان سے بہتر لوگ نہیں دیکھے ، وہ لوگ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں ، یہاں تک کہ ان میں سے کسی کے جسم پر یوں کپکپی طاری ہوتی ہے کہ یوں لگتا ہے ، جیسے اللہ کے خوف کی وجہ سے اُس پر بیہوشی طاری ہو جائے گی ، میں ان لوگوں کے ساتھ بیٹھ گیا ، میرے والد نے فرمایا : اب کے بعد تم ان کے ساتھ نہ بیٹھنا ، پھر انہوں نے مجھے ملاحظہ کیا اور انہیں محسوس ہوا کہ شاید میں نے ان کی بات کو توجہ نہیں دی ، تو انہوں نے فرمایا : ” میں نے سیدنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کو قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے دیکھا ہے ، لیکن ان کی اس طرح کی صورتحال نہیں ہوتی تھی ، تو کیا تم یہ سمجھتے ہو ؟ کہ یہ لوگ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں ؟ راوی بیان کرتے ہیں : جب میں نے جائزہ لیا تو ایسا ہی تھا ، تو میں نے انہیں چھوڑ دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مصعب بن ثابت ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17650
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنِ ابْنِ غَنْمٍ قَالَ : لَمَّا دَخَلْنَا مَسْجِدَ الْجَابِيَةِ أَنَا وَأَبُو الدَّرْدَاءِ ، أَلْفَيْنَا عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ ، فَأَخَذَ يَمِينِي بِشِمَالِهِ ، وَشَمَالَ أَبِي الدَّرْدَاءِ بِيَمِينِهِ ، فَخَرَجَ يَمْشِي بَيْنَنَا وَنَحْنُ نَنْتَجِي ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ مَا نَتَنَاجَى ، فَقَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ : لَئِنْ طَالَ بِكُمَا عُمْرُ أَحَدِكُمَا أَوْ كِلَاكُمَا لَتُوشِكَانِ أَنْ تَرَيَا الرَّجُلَ مَنْ ثَبَجِ - يَعْنِي مِنْ وَسَطِ - الْمُسْلِمِينَ قَرَأَ الْقُرْآنَ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ أَعَادَهُ وَأَبْدَاهُ ، فَأَحَلَّ حَلَالَهُ ، وَحَرَّمَ حَرَامَهُ ، وَنَزَلَ عِنْدَ مَنَازِلِهِ ، أَوْ قَرَأَهُ عَلَى لِسَانِ أَخِيهِ قِرَاءَةً عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعَادَهُ وَأَبْدَاهُ ، وَأَحَلَّ حَلَالَهُ ، وَحَرَّمَ حَرَامَهُ ، وَنَزَلَ عِنْدَ مَنَازِلَهُ ، لَا يَحُوزُ فِيكُمْ إِلَّا كَمَا يَحُوزُ رَأْسُ الْحِمَارِ الْمَيِّتِ ، قَالَ : فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا شَدَّادُ بْنُ أَوْسٍ ، وَعَوْفُ بْنُ مَالِكٍ ، فَجَلَسَا إِلَيْهِ . فَقَالَ شَدَّادٌ : إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ ، لَمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مِنَ الشَّهْوَةِ الْخَفِيَّةِ وَالشِّرْكِ " . فَقَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ ، وَأَبُو الدَّرْدَاءِ : اللَّهُمَّ غَفْرًا ، أَوَ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ حَدَّثَنَا : " أَنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ يَئِسَ أَنْ يُعْبَدَ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ ؟ ! . فَأَمَّا الشَّهْوَةُ الْخَفِيَّةُ فَقَدْ عَرَفْنَاهَا ، هَا هِيَ شَهَوَاتُ الدُّنْيَا مِنْ نِسَائِهَا وَشَهَوَاتُهَا ، فَمَا هَذَا الشِّرْكُ الَّذِي تُخَوِّفُنَا بِهِ يَا شَدَّادُ ؟ ! فَقَالَ شَدَّادُ : أَرَأَيْتُمْ لَوْ رَأَيْتُمْ أَنَّ رَجُلًا يُصَلِّي لِرَجُلٍ ، أَوْ يَصُومُ لِرَجُلٍ ، أَوْ يَتَصَدَّقُ لَهُ ، أَتَرَوْنَ أَنَّهُ قَدْ أَشْرَكَ ؟ قَالُوا : نَعَمْ وَاللَّهِ ، إِنَّهُ مَنْ صَلَّى لِرَجُلٍ أَوْ صَامَ لَهُ أَوْ تَصَدَّقَ لَهُ لَقَدْ أَشْرَكَ . فَقَالَ شَدَّادٌ : فَإِنِّي قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَنْ صَلَّى يُرَائِي فَقَدْ أَشْرَكَ ، وَمَنْ صَامَ يُرَائِي فَقَدْ أَشْرَكَ ، وَمَنْ تَصَدَّقَ يُرَائِي فَقَدْ أَشْرَكَ . فَقَالَ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ عِنْدَ ذَلِكَ : أَفَلَا يَعْمِدُ اللَّهُ إِلَى مَا ابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُهُ مِنْ ذَلِكَ الْعَمَلِ كُلِّهِ فَيَقْبَلُ مَا خَلَصَ لَهُ ، وَيَدَعُ مَا أُشْرِكَ بِهِ ؟ ! قَالَ شَدَّادٌ عِنْدَ ذَلِكَ : فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَالَ : أَنَا خَيْرُ قَسِيمٍ لِمَنْ أَشْرَكَ بِي ، مَنْ أَشْرَكَ بِي شَيْئًا ; فَإِنَّ حَشْدَهُ عَمَلَهُ قَلِيلَهُ وَكَثِيرَهُ لِشَرِيكِهِ الَّذِي أَشْرَكَ بِهِ ، أَنَا عَنْهُ غَنِيٌّ " . قُلْتُ : عِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ طَرَفٌ مِنْهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
ابن غنم بیان کرتے ہیں : جب میں اور سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ جابیہ کی مسجد میں داخل ہوئے ، تو ہم نے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو پایا ، انہوں نے اپنے بائیں ہاتھ سے میرا دایاں ہاتھ پکڑا اور اپنے دائیں ہاتھ سے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کا بایاں ہاتھ پکڑا ، پھر وہ ہم دونوں کے درمیان چلتے ہوئے باہر نکلے ، ہم آپس میں سرگوشی کر رہے تھے ، اور اللہ بہتر جانتا ہے کہ ہم کیا سرگوشی کر رہے تھے ، سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر تم دونوں میں سے کسی ایک کی ، یا تم دونوں کی عمر لمبی ہوئی ، تو عنقریب تم دونوں ایک ایسے شخص کو دیکھو گے ، جو مسلمانوں کے درمیانے طبقے ( ثبج یعنی وسط ) سے تعلق رکھتا ہو گا ، جس نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان کے مطابق قرآن پڑھا ہو گا ، اسے بار بار دہرایا ہو گا ، اس کے حلال کو حلال قرار دیا ہو گا ، اس کے حرام کو حرام قرار دیا ہو گا اور اس کی منازل پر ٹھہرا ہو گا ، یا اس نے اپنے بھائی کی زبان سے ، سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان کے مطابق قراءت کے طور پر اسے پڑھا ہو گا ، پھر اسے بار بار دہرایا ہو گا ، اس کے حلال کو حلال قرار دیا ہو گا ، اس کے حرام کو حرام قرار دیا ہو گا اور اس کی منازل پر ٹھہرا ہو گا ، لیکن تمہارے درمیان اس کی قدر صرف اتنی ہو گی ، جتنی مردہ گدھے کے سر کی قدر ہوتی ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ہم اسی حالت میں تھے کہ اسی دوران سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ اور سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اور وہ دونوں ان کے پاس بیٹھ گئے ، سیدنا شداد رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے لوگو ! تمہارے بارے میں مجھے سب سے زیادہ اندیشہ اس چیز کا ہے ، جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” پوشیدہ خواہش اور شرک ۔ “ تو سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ ! مغفرت فرما ! کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ بات نہیں بتائی تھی : ” کہ شیطان اس بات سے مایوس ہو چکا ہے کہ جزیرہ عرب میں اس کی عبادت کی جائے “ ؟ جہاں تک پوشیدہ خواہش کا تعلق ہے ، تو اسے ہم جان چکے ہیں ، یہ دنیا کی خواہشات ہیں ، یعنی اس کی عورتیں اور اس کی خواہشات ، تو اے شداد ! یہ کون سا شرک ہے ، جس سے تم ہمیں ڈرا رہے ہو ؟ سیدنا شداد رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہارا کیا خیال ہے ، اگر تم کسی شخص کو دیکھو کہ وہ کسی آدمی کی خاطر نماز پڑھتا ہے ، یا کسی آدمی کی خاطر روزہ رکھتا ہے ، یا اس کی خاطر صدقہ کرتا ہے ، تو کیا تم یہ سمجھو گے کہ اس نے شرک کیا ہے ؟ ان حضرات نے جواب دیا : جی ہاں ! اللہ کی قسم ! جو شخص کسی آدمی کی خاطر نماز پڑھے ، یا اس کی خاطر روزہ رکھے ، یا اس کی خاطر صدقہ کرے ، تو اس نے شرک کیا ، سیدنا شداد رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص دکھاوے کے لیے نماز پڑھتا ہے ، اس نے شرک کیا ، جو شخص دکھاوے کے لیے روزہ رکھتا ہے ، اس نے شرک کیا اور جو شخص دکھاوے کے لیے صدقہ کرتا ہے ، اس نے شرک کیا ۔ “ اس موقع پر سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ اس سارے عمل میں سے اس حصے کی طرف توجہ نہیں فرمائے گا ، جس کے ذریعے اس کی رضا طلب کی گئی ہو ، اور جو اس کے لیے خالص ہو اسے قبول کر لے اور جس میں شرک کیا گیا ہو ، اسے چھوڑ دے ؟ اس موقع پر سیدنا شداد رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے : جو شخص میرے ساتھ شرک کرتا ہے ، میں اس کے لیے سب سے بہتر حصہ دار ہوں ، جو شخص کسی چیز کو میرا شریک ٹھہراتا ہے ، تو اس کا سارا عمل ، تھوڑا ہو یا زیادہ ، اس کے اُس شریک کے لیے ہو گا ، جسے اس نے شریک ٹھہرایا اور میں اس سے بے نیاز ہوں ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ، جسے امام أحمد اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے اور ایک سے زیادہ افراد نے اسے ضعیف کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17651
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7139) ، أخرجه مسند أحمد برقم: 16690»
وَعَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - يَقُولُ : أَنَا خَيْرُ شَرِيكٍ ، فَمَنْ أَشْرَكَ مَعِيَ شَرِيكًا فَهُوَ لِشَرِيكِي . يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، أَخْلِصُوا أَعْمَالَكُمْ لِلَّهِ ; فَإِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - لَا يَقْبَلُ مِنَ الْأَعْمَالِ إِلَّا مَا خَلَصَ لَهُ ، وَلَا تَقُولُوا : هَذَا لِلَّهِ وَلِلرَّحِمِ ; فَإِنَّهَا لِلرَّحِمِ وَلَيْسَ لِلَّهِ مِنْهَا شَيْءٌ ، وَلَا تَقُولُوا : هَذَا لِلَّهِ وَلِوُجُوهِكُمْ ; فَإِنَّهَا لِوُجُوهِكُمْ وَلَيْسَ لِلَّهِ فِيهَا شَيْءٌ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ : إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُجَشِّرٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین
سیدنا ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے : ” میں “ سب سے بہتر شراکت دار ہوں ، جو شخص کسی کو میرا شریک ٹھہراتا ہے ، تو وہ عمل میرے شریک کے لئے ہو گا ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) اے لوگو ! عمل کو اللہ تعالیٰ کیلئے خالص کرو ! کیونکہ اللہ تعالیٰ صرف انہی اعمال کو قبول کرتا ہے ، جو اس کے لئے خالص ہوں ، اور تم یہ نہ کہو : کہ یہ اللہ تعالیٰ کے لیے اور رشتہ داری کے تعلق کے لیے ہے ، کیونکہ وہ رشتہ داری کے تعلق کے لیے شمار ہو گا ، اس میں سے اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی چیز نہیں ہو گی ، اور تم یہ نہ کہو : کہ یہ اللہ تعالیٰ کے لیے اور تم لوگوں کے لیے ہے ، کیونکہ وہ تم لوگوں کے لیے شمار ہو گا ، اس میں اللہ تعالیٰ کے لئے کچھ نہیں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد ابراہیم بن مجشر سے نقل کی ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17652
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3567)»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَحْسَنَ الصَّلَاةَ حَيْثُ يَرَاهُ النَّاسُ ، وَأَسَاءَهَا حَيْثُ يَخْلُو فَتِلْكَ اسْتِهَانَةٌ اسْتَهَانَ بِهَا رَبَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُسْلِمٍ الْهَجَرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اس وقت اچھی طرح نماز ادا کرے ، جب لوگ اسے دیکھ رہے ہوں اور اس وقت بری طرح نماز ادا کرے ، جب وہ تنہا ہو ، تو یہ توہین ہے ، اس کے ذریعے وہ اپنے پروردگار کی توہین کا مرتکب ہو گا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن مسلم ہجری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17653
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «آخر به ابو يعلى فى المسند (5117)»
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يُجَاءُ بِابْنِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُ بَذَجٌ - وَرُبَّمَا قَالَ : - كَأَنَّهُ حَمَلٌ ، يَقُولُ : يَا ابْنَ آدَمَ ، أَنَا خَيْرُ قَسِيمٍ ، انْظُرْ إِلَى عَمَلِكَ الَّذِي عَمِلْتَهُ لِي ، فَأَنَا أَجْزِيكَ بِهِ ، وَانْظُرْ إِلَى عَمَلِكَ الَّذِي عَمِلْتَهُ لِغَيْرِي فَيُجَازِيكَ عَلَى الَّذِي عَمِلْتَ لَهُ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُدَلِّسُونَ .
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن ابن آدم کو لایا جائے گا ، یوں جیسے وہ ” بذج“ ہو ( بعض اوقات راوی یہ لفظ نقل کرتے ہیں : ) جیسے وہ ” حمل“ ہو ( دونوں الفاظ کا مطلب بھیڑ کا بچہ ہے ) پروردگار فرمائے گا : اے ابن آدم ! میں بہترین حصہ دار ہوں ، تم اپنے اس عمل کا جائزہ لو ! جو تم نے میرے لئے کیا ، میں تمہیں اس کا بدلہ دے دوں گا ، اور تم اپنے اس عمل کا جائزہ لو ، جو تم نے میرے غیر کے لیے کیا تھا ، تو وہ تمہیں اس کا بدلہ دے گا ، جو عمل تم نے اس کے لئے کیا تھا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں مدلس راوی ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17654
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (4121) ، أخرجه سنن الترمذي برقم: 2427، وأخرجه المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية برقم: 3216، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 401»
وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ : كُنَّا نَعُدُّ الرِّيَاءَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الشِّرْكَ الْأَكْبَرَ . قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِي الرِّيَاءِ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ غَيْرُ هَذَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ . وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ يَعْلَى بْنِ شَدَّادٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ .
محمد محی الدین
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ، ہم ریاکاری کو بڑا شرک شمار کرتے تھے ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے ریاکاری کے بارے میں ایک حدیث مذکور ہے ، جسے امام ابن ماجہ نے نقل کیا ہے اور وہ اس روایت کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” چھوٹا شرک“ ۔ ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف یعلیٰ بن شداد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17655
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3565) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (198) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير 7160 ، أخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 198»
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا كَانَ آخِرُ الزَّمَانِ صَارَتْ أُمَّتِي ثَلَاثَ فِرَقٍ : فِرْقَةٌ تَعْبُدُ اللَّهَ خَالِصًا ، وَفِرْقَةٌ تَعْبُدُ اللَّهَ رِيَاءً ، وَفِرْقَةٌ يَعْبُدُونَ اللَّهَ لِيَسْتَأْكِلُوا بِهِ النَّاسَ " . قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَهُوَ بِتَمَامِهِ فِي كِتَابِ الْبَعْثِ فِي الْحِسَابِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْعَطَّارُ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ .
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب آخری زمانہ آئے گا ، تو میری امت تین گروہوں میں تقسیم ہو جائے گی ، ایک گروہ خالص طور پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے گا ، ایک گروہ ریاکاری کے طور پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے گا ، اور ایک گروہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس لیے کرے گا ، تاکہ اس کے ذریعے لوگوں کا ( مال ) کھائے ۔ “ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو دوبارہ زندہ کیے جانے سے متعلق کتاب میں ، حساب سے متعلق باب میں ، مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبید بن اسحاق عطار ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17656
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4301) ، أخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 5101»
وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمُ الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ ؟ قَالَ : " الرِّيَاءُ . يُقَالُ لِمَنْ يَفْعَلُ ذَلِكَ إِذَا جَاءَ النَّاسُ بِأَعْمَالِهِمْ : اذْهَبُوا إِلَى الَّذِينَ كُنْتُمْ تُرَاؤُونَ فَاطْلُبُوا ذَلِكَ عِنْدَهُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَبِيبِ بْنِ خَالِدٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ .
محمد محی الدین
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تم لوگوں کے بارے میں ، مجھے سب سے زیادہ اندیشہ چھوٹے شرک کے حوالے سے ہے ، لوگوں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! چھوٹے شرک سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ریاکاری ، جو شخص ایسا کرے گا ، جب لوگ اپنے اعمال لے کے آئیں گے ، تو اس سے کہا: جائے گا : تم ان کی طرف چلے جاؤ ، جن کے لیے تم دکھاوا کیا کرتے تھے اور ان کا اجر ان سے طلب کرو ! “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن شبیب بن خالد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17657
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «أخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 4301»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ فِي جَهَنَّمَ لَوَادِيًا تَسْتَعِيذُ جَهَنَّمُ مِنْ ذَلِكَ الْوَادِي فِي كُلِّ يَوْمٍ أَرْبَعَمِائَةِ مَرَّةٍ ، أُعِدَّ ذَلِكَ الْوَادِي لِلْمُرَائِينَ مِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِحَامِلِ كِتَابِ اللَّهِ ، وَالْمُتَصَدِّقِينَ فِي غَيْرِ ذَاتِ اللَّهِ ، وَالْحَاجِّ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ ، وَالْخَارِجِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ : يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدَوَيْهِ ، عَنْ أَبِيهِ وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جہنم میں ایک وادی ہے ، جہنم بھی روزانہ چار سو مرتبہ اس وادی سے پناہ مانگتی ہے ، وہ وادی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سے تعلق رکھنے والے ، دکھاوا کرنے والے لوگوں کے لئے بنائی گئی ہے ، جو اللہ تعالیٰ کے غیر کے لئے ، اللہ کی کتاب کا علم حاصل کرتے ہیں ( یا اللہ تعالیٰ کے غیر کے لیے ) صدقہ کرتے ہیں ، بیت اللہ کا حج کرتے ہیں ، اور ( غیر کے لیے ) اللہ کی راہ میں نکلتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد یحیی بن عبداللہ بن عبدویہ کے حوالے سے ، ان کے والد سے نقل کی ہے اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17658
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (128093) اخرجه احمد فى المسند (6509) ، أخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 12803»
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الدُّنْيَا مَلْعُونَةٌ مَلْعُونٌ مَا فِيهَا ، إِلَّا مَا ابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ خِدَاشُ بْنُ الْمُهَاجِرِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” دنیا ملعون ہے اور اس میں موجود ہر چیز ملعون ہے ، البتہ اس کا معاملہ مختلف ہے ، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی کوشش کی جائے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خداش بن مہاجر ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17659
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ : حَدَّثَنِي شَيْخٌ يُكَنَّى أَبَا يَزِيدَ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنِ ابْنِ آدَمَ مَجْرَى الدَّمِ وَالرُّوحِ ، فَبَكَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو وَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ سَمَّعَ النَّاسَ بِعَمَلِهِ ، سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ سَامِعَ خَلْقِهِ ، وَصَغَّرَهُ ، وَحَقَّرَهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَاللَّفْظُ لَهُ ، وَالْأَوْسَطُ بِنَحْوِهِ وَقَالَ : " سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ سَامِعَ خَلْقِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ بِاخْتِصَارِ قَوْلِ ابْنِ عُمَرَ ، وَقَالَ فِيهِ : فَذَرَفَتْ عَيْنَا عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ . وَسَمَّى الطَّبَرَانِيُّ الرَّجُلَ ، وَهُوَ خَيْثَمَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، فَبِهَذَا الِاعْتِبَارِ رِجَالُ أَحْمَدَ ، وَأَحَدُ أَسَانِيدِ الطَّبَرَانِيِّ فِي الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین
عمرو بن مرہ بیان کرتے ہیں : ایک بزرگ نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے ، اُن بزرگ کی کنیت ابویزید تھی ، وہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، اسی دوران سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : شیطان انسان کی خون کی رگوں میں اور روح کی جگہ ( یعنی پورے وجود میں ) دوڑتا ہے ، تو سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ رو پڑے اور انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص اپنے عمل کے حوالے سے لوگوں کے سامنے شہرت کا طلبگار ہو گا ، اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے سننے والوں کے سامنے اس کی شہرت کی خواہش کو ظاہر کر دے گا اور اسے چھوٹا اور حقیر بنا دے گا ۔ “ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، روایت کے لیے الفاظ ان کی نقل کردہ ہیں ، انہوں نے معجم اوسط میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے اور اس میں یہ الفاظ ہیں : ” قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی شہرت کی خواہش کو اپنی مخلوق کے سامنے ظاہر کر دے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے قول کے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اور اس میں انہوں نے یہ بات بیان کی ہے : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ۔ امام طبرانی نے اس بزرگ کا نام بیان کیا ہے ، ان کا نام خیثمہ بن عبدالرحمن ہے ، اس بنیاد پر امام أحمد کے رجال اور امام طبرانی کی معجم کبیر میں اسانید میں سے ، ایک سند کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17660
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ رجال
تخریج حدیث «أخرجه مسند أحمد برقم: 6947، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 398/2»
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ سَمَّعَ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ ، وَمَنْ رَاءَى رَاءَى اللَّهُ بِهِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَأَسَانِيدُهُمْ حَسَنَةٌ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص شہرت چاہے گا ، اللہ تعالیٰ اس کی شہرت کی خواہش کو ظاہر کر دے گا اور جو شخص دکھاوا کرے گا ، اللہ تعالیٰ اس کے دکھاوے کی خواہش کو ظاہر کر دے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے ، امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان کی اسانید حسن ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17661
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3563) اخرجه احمد فى المسند (45/5) ، أخرجه مسند أحمد برقم: 19943، وأخرجه مسند البزار برقم: 3691»
وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ قَامَ مَقَامَ رِيَاءٍ رَاءَى اللَّهُ بِهِ ، وَمَنْ قَامَ مَقَامَ سُمْعَةٍ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ .
محمد محی الدین
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص ریاکاری کے مقام پر کھڑا ہو گا ، اللہ تعالیٰ اس کی ریاکاری کو ظاہر کر دے گا اور جو شخص شہرت کے مقام پر کھڑا ہو گا ، اللہ تعالیٰ اس کی شہرت کی خواہش کو ظاہر کر دے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17662
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (56/18)»
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا مِنْ عَبْدٍ يَقُومُ فِي الدُّنْيَا مَقَامَ سُمْعَةٍ وَرِيَاءٍ إِلَّا سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ عَلَى رُؤُوسِ الْخَلَائِقِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ .
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو بندہ دنیا میں شہرت اور دکھاوے کے مقام پر کھڑا ہو گا ، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ساری مخلوق کے سامنے اُس کی اس چیز کو ظاہر کر دے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17663
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3571) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (119/20)»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ الْخُزَاعِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ قَامَ رِيَاءً وَسُمْعَةً ; فَإِنَّهُ فِي مَقْتِ اللَّهِ حَتَّى يَجْلِسَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ عِيَاضٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن قیس خزاعی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص دکھاوے اور شہرت کے مقام پر کھڑا ہو گا ، وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی میں رہے گا ، جب تک وہ بیٹھ نہیں جاتا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عیاض ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17664
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : مَنْ سَمَّعَ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ ، وَمَنْ رَاءَى رَاءَى اللَّهُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَمَنْ تَخَشَّعَ لِلَّهِ تَوَاضُعًا رَفَعَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مَوْقُوفًا مِنْ طَرِيقِ أَبِي رَزِينٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” جو شخص شہرت کا طلبگار ہو گا ، اللہ تعالیٰ ( قیامت کے دن ) اس کی شہرت کی خواہش کو ظاہر کر دے گا اور جو شخص دکھاوا کرے گا ، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے دکھاوے کو ظاہر کر دے گا ، اور جو شخص تواضع اختیار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے لیے خشوع اختیار کرے گا ، اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن سربلندی نصیب کرے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے ” موقوف “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، جو ابورزین نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے اور میں اس ( یعنی ابورزین ) سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17665
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8751)»
وَعَنْ أَبِي هِنْدٍ الدَّارِيِّ : أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ قَامَ مَقَامَ رِيَاءٍ وَسُمْعَةٍ ; رَاءَى اللَّهُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَسَمَّعَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ قَامَ بِأَخِيهِ مَقَامَ رِيَاءٍ وَسُمْعَةٍ أَقَامَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَسَمَّعَ بِهِ " .
وَ الطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ، وَالْبَزَّارُ ، وَأَحَدُ أَسَانِيدِ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہند داری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص ریاکاری اور شہرت کے مقام پر کھڑا ہو گا ، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی ریاکاری اور شہرت کی خواہش کو ظاہر کر دے گا ۔ “ یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” جو شخص اپنے بھائی کو ریاکاری اور شہرت کی جگہ پر کھڑا کرے گا ، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے کھڑا کرے گا اور اس کی شہرت کی خواہش کو ظاہر کر دے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، امام أحمد اور امام بزار کے رجال اور امام طبرانی کی مختلف اسانید میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17666
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3564) اخرجه احمد فى المسند (270/5) ، أخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 701، وأخرجه مسند أحمد برقم: 21817، وأخرجه سنن الدارمي برقم: 2748»
وَعَنْ أَبِي هِنْدٍ الدَّارِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ رَاءَى بِاللَّهِ لِغَيْرِ اللَّهِ فَقَدْ بَرِئَ مِنْهُ اللَّهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہند داری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص اللہ تعالیٰ سے متعلق ( عمل کا ) ” غیر اللہ “ کے لئے دکھاوا کرے گا ، وہ اللہ تعالیٰ سے لاتعلق ہو جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں راویوں کی ایک ایسی جماعت ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17667
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (319/22)»