کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ریاکاری کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 17646
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بَشِّرْ هَذِهِ الْأُمَّةَ بِالسَّنَاءِ وَالرِّفْعَةِ ، وَالدِّينِ وَالنَّصْرِ وَالتَّمْكِينِ فِي الْأَرْضِ . - وَهُوَ يَشُكُّ فِي الثَّالِثَةِ - قَالَ : فَمَنْ عَمِلَ مِنْهُمْ عَمَلَ الْآخِرَةِ لِلدُّنْيَا لَمْ يَكُنْ لَهُ فِي الْآخِرَةِ نَصِيبٌ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُهُ مِنْ طُرُقٍ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابی بن کعب روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس امت کو چمک ، بلندی ، دین ، مدد ، زمین میں حکومت کی خوشخبری دیدو ( تیسری چیز کے بارے میں راوی کو شک ہے ) اُن لوگوں میں سے ، جو شخص آخرت سے متعلق عمل کو ، دنیا کے لئے کرے گا ، اُس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے اور ان کے صاحبزادے نے مختلف طرق کے ساتھ نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17646
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (134/5)»
حدیث نمبر: 17647
وَعَنِ الْجَارُودِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ طَلَبَ الدُّنْيَا بِعَمَلِ الْآخِرَةِ طُمِسَ وَجْهُهُ ، وَمُحِقَ ذِكْرُهُ ، وَأُثْبِتَ اسْمُهُ فِي النَّارِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جارود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص آخرت سے متعلق عمل کے ذریعے ، دنیا طلب کرے گا ، اس کے چہرے کو بجھا دیا جائے گا اور اس کے ذکر کو مٹا دیا جائے گا اور اس کا نام جہنم میں ثبت کر دیا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17647
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2128)»
حدیث نمبر: 17648
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ تَزَيَّنَ بِعَمَلِ الْآخِرَةِ ، وَهُوَ لَا يُرِيدُهَا ، وَلَا يَطْلُبُهَا لُعِنَ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرَضِينَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى التَّيْمِيُّ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص آخرت سے متعلق عمل کے ذریعے آراستگی اختیار کرے اور وہ آخرت کا ارادہ نہ رکھتا ہو ، یا وہ آخرت کا طلبگار نہ ہو ، تو آسمانوں اور زمینوں میں اُس پر لعنت کی جاتی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن یحیی تیمی ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17648
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ موضوع
حدیث نمبر: 17649
وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يُؤْمَرُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِنَاسٍ مِنَ النَّاسِ إِلَى الْجَنَّةِ حَتَّى إِذَا دَنَوْا مِنْهَا ، وَاسْتَنْشَقُوا رِيحَهَا ، وَنَظَرُوا إِلَى قُصُورِهَا ، وَمَا أَعَدَّ اللَّهُ لِأَهْلِهَا فِيهَا ، نُودُوا : أَنِ اصْرِفُوهُمْ عَنْهَا لَا نَصِيبَ لَهُمْ فِيهَا ، فَيَرْجِعُونَ بِحَسْرَةٍ مَا رَجَعَ الْأَوَّلُونَ بِمِثْلِهَا ، فَيَقُولُونَ : رَبَّنَا ، لَوْ أَدْخَلْتَنَا النَّارَ قَبْلَ أَنْ تُرِيَنَا مَا أَرَيْتَنَا مِنْ ثَوَابِكَ ، وَمَا أَعْدَدْتَ فِيهَا لِأَوْلِيَائِكَ ; كَانَ أَهْوَنَ عَلَيْنَا ، قَالَ : ذَاكَ أَرَدْتُ بِكُمْ ، كُنْتُمْ إِذَا خَلَوْتُمْ بَارَزْتُمُونِي بِالْعَظَائِمِ ، وَإِذَا لَقِيتُمُ النَّاسَ لَقِيتُمُوهُمْ مُخْبِتِينَ تُرَاؤُونَ النَّاسَ بِخِلَافِ مَا تُعْطُونِي مِنْ قُلُوبِكُمْ ، هِبْتُمُ النَّاسَ وَلَمْ تَهَابُونِي ، أَجْلَلْتُمُ النَّاسَ وَلَمْ تُجِلُّونِي ، وَتَرَكْتُمْ لِلنَّاسِ وَلَمْ تَتْرُكُوا لِي ، فَالْيَوْمَ أُذِيقُكُمْ أَلِيمَ الْعَذَابِ مَعَ مَا حَرَمْتُكُمْ مِنَ الثَّوَابِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو جُنَادَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن کچھ لوگوں کو جنت کی طرف جانے کا حکم دیا جائے گا ، یہاں تک کہ جب وہ لوگ اس کے قریب پہنچ جائیں گے ، اور اس کی خوشبو کو محسوس کریں گے اور اس کے محلات کو دیکھیں گے اور اس میں موجود ان چیزوں کو دیکھیں گے ، جو اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کے لیے تیار کی ہیں ، تو انہیں پکار کر یہ کہا: جائے گا : تم اس ( جنت کے قریب کے مقام ) سے پھر جاؤ ! ان لوگوں کا اس جنت میں کوئی حصہ نہیں ہو گا ، تو وہ لوگ ایسی حسرت کے ہمراہ پلٹ جائیں گے ، کہ پہلے کے لوگ اس طرح کی حسرت کے ہمراہ واپس نہیں گئے ہوں گے ، وہ لوگ کہیں گے : اے ہمارے پروردگار ! تو نے اپنا جو ثواب ہمیں دکھایا ہے ، اور اس میں تو نے اپنے دوستوں کے لئے جو کچھ تیار کیا ہے ، اگر تو وہ ہمیں دکھانے سے پہلے ، تو ہمیں جہنم میں داخل کر دیتا ، تو یہ ہمارے لئے زیادہ آسان ہونا تھا ، پروردگار فرمائے گا : میں تمہارے بارے میں یہی ارادہ رکھتا تھا ، جب تم لوگ خلوت میں ہوتے تھے ، تو تم بڑی بڑی باتوں کے ذریعے مجھے للکارتے تھے ، اور جب تم لوگوں سے ملتے تھے تو تم تواضع کا اظہار کرتے تھے ، تم لوگوں کے سامنے اس چیز کا دکھاوا کرتے تھے جو اس چیز کے برخلاف تھی ، جو تم اپنے دلوں کے حوالے سے مجھے دیتے تھے ، تم لوگوں سے ڈرتے رہے اور تم مجھ سے نہیں ڈرے ، تم نے لوگوں کا احترام کیا اور تم نے میرا احترام نہیں کیا ، تم نے لوگوں کے لئے ترک کر دیا اور میرے لئے ترک نہیں کیا ، آج میں تمہیں دردناک عذاب چکھاؤں گا اور یہ اس کے ہمراہ ہو گا ، جو میں نے تمہیں ثواب سے محروم رکھا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابوجنادہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17649
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (85/17)»
حدیث نمبر: 17650
وَعَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : جِئْتُ أَبِي فَقَالَ لِي : أَيْنَ كُنْتَ ؟ فَقُلْتُ : وَجَدْتُ أَقْوَامًا مَا رَأَيْتُ خَيْرًا مِنْهُمْ ، يَذْكُرُونَ اللَّهَ فَيَرْعَدُ أَحَدُهُمْ حَتَّى يُغْشَى عَلَيْهِ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ ، فَقَعَدْتُ مَعَهُمْ ، قَالَ : لَا تَقْعُدْ مَعَهُمْ بَعْدَهَا ، فَرَآنِي كَأَنَّهُ لَمْ يَأْخُذْ ذَلِكَ فِي ، فَقَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابُهُ يَتْلُونَ الْقُرْآنَ ، فَلَا يُصِيبُهُمْ هَذَا ، أَفَتَرَاهُمْ أَخْشَعُ لِلَّهِ مِنْ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ؟ ! فَرَأَيْتُ أَنَّ ذَلِكَ كَذَلِكَ فَتَرَكْتُهُمْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
عامر بن عبداللہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : میں اپنے والد کے پاس آیا ، انہوں نے مجھ سے دریافت کیا : تم کہاں تھے ؟ میں نے جواب دیا : میں نے کچھ لوگوں کو پایا ہے ، میں نے ان سے بہتر لوگ نہیں دیکھے ، وہ لوگ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں ، یہاں تک کہ ان میں سے کسی کے جسم پر یوں کپکپی طاری ہوتی ہے کہ یوں لگتا ہے ، جیسے اللہ کے خوف کی وجہ سے اُس پر بیہوشی طاری ہو جائے گی ، میں ان لوگوں کے ساتھ بیٹھ گیا ، میرے والد نے فرمایا : اب کے بعد تم ان کے ساتھ نہ بیٹھنا ، پھر انہوں نے مجھے ملاحظہ کیا اور انہیں محسوس ہوا کہ شاید میں نے ان کی بات کو توجہ نہیں دی ، تو انہوں نے فرمایا : ” میں نے سیدنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے دیکھا ہے ، میں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے دیکھا ہے ، لیکن ان کی اس طرح کی صورتحال نہیں ہوتی تھی ، تو کیا تم یہ سمجھتے ہو ؟ کہ یہ لوگ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں ؟ راوی بیان کرتے ہیں : جب میں نے جائزہ لیا تو ایسا ہی تھا ، تو میں نے انہیں چھوڑ دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مصعب بن ثابت ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17650
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 17651
وَعَنِ ابْنِ غَنْمٍ قَالَ : لَمَّا دَخَلْنَا مَسْجِدَ الْجَابِيَةِ أَنَا وَأَبُو الدَّرْدَاءِ ، أَلْفَيْنَا عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ ، فَأَخَذَ يَمِينِي بِشِمَالِهِ ، وَشَمَالَ أَبِي الدَّرْدَاءِ بِيَمِينِهِ ، فَخَرَجَ يَمْشِي بَيْنَنَا وَنَحْنُ نَنْتَجِي ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ مَا نَتَنَاجَى ، فَقَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ : لَئِنْ طَالَ بِكُمَا عُمْرُ أَحَدِكُمَا أَوْ كِلَاكُمَا لَتُوشِكَانِ أَنْ تَرَيَا الرَّجُلَ مَنْ ثَبَجِ - يَعْنِي مِنْ وَسَطِ - الْمُسْلِمِينَ قَرَأَ الْقُرْآنَ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ أَعَادَهُ وَأَبْدَاهُ ، فَأَحَلَّ حَلَالَهُ ، وَحَرَّمَ حَرَامَهُ ، وَنَزَلَ عِنْدَ مَنَازِلِهِ ، أَوْ قَرَأَهُ عَلَى لِسَانِ أَخِيهِ قِرَاءَةً عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعَادَهُ وَأَبْدَاهُ ، وَأَحَلَّ حَلَالَهُ ، وَحَرَّمَ حَرَامَهُ ، وَنَزَلَ عِنْدَ مَنَازِلَهُ ، لَا يَحُوزُ فِيكُمْ إِلَّا كَمَا يَحُوزُ رَأْسُ الْحِمَارِ الْمَيِّتِ ، قَالَ : فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا شَدَّادُ بْنُ أَوْسٍ ، وَعَوْفُ بْنُ مَالِكٍ ، فَجَلَسَا إِلَيْهِ . فَقَالَ شَدَّادٌ : إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ ، لَمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مِنَ الشَّهْوَةِ الْخَفِيَّةِ وَالشِّرْكِ " . فَقَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ ، وَأَبُو الدَّرْدَاءِ : اللَّهُمَّ غَفْرًا ، أَوَ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ حَدَّثَنَا : " أَنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ يَئِسَ أَنْ يُعْبَدَ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ ؟ ! . فَأَمَّا الشَّهْوَةُ الْخَفِيَّةُ فَقَدْ عَرَفْنَاهَا ، هَا هِيَ شَهَوَاتُ الدُّنْيَا مِنْ نِسَائِهَا وَشَهَوَاتُهَا ، فَمَا هَذَا الشِّرْكُ الَّذِي تُخَوِّفُنَا بِهِ يَا شَدَّادُ ؟ ! فَقَالَ شَدَّادُ : أَرَأَيْتُمْ لَوْ رَأَيْتُمْ أَنَّ رَجُلًا يُصَلِّي لِرَجُلٍ ، أَوْ يَصُومُ لِرَجُلٍ ، أَوْ يَتَصَدَّقُ لَهُ ، أَتَرَوْنَ أَنَّهُ قَدْ أَشْرَكَ ؟ قَالُوا : نَعَمْ وَاللَّهِ ، إِنَّهُ مَنْ صَلَّى لِرَجُلٍ أَوْ صَامَ لَهُ أَوْ تَصَدَّقَ لَهُ لَقَدْ أَشْرَكَ . فَقَالَ شَدَّادٌ : فَإِنِّي قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَنْ صَلَّى يُرَائِي فَقَدْ أَشْرَكَ ، وَمَنْ صَامَ يُرَائِي فَقَدْ أَشْرَكَ ، وَمَنْ تَصَدَّقَ يُرَائِي فَقَدْ أَشْرَكَ . فَقَالَ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ عِنْدَ ذَلِكَ : أَفَلَا يَعْمِدُ اللَّهُ إِلَى مَا ابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُهُ مِنْ ذَلِكَ الْعَمَلِ كُلِّهِ فَيَقْبَلُ مَا خَلَصَ لَهُ ، وَيَدَعُ مَا أُشْرِكَ بِهِ ؟ ! قَالَ شَدَّادٌ عِنْدَ ذَلِكَ : فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَالَ : أَنَا خَيْرُ قَسِيمٍ لِمَنْ أَشْرَكَ بِي ، مَنْ أَشْرَكَ بِي شَيْئًا ; فَإِنَّ حَشْدَهُ عَمَلَهُ قَلِيلَهُ وَكَثِيرَهُ لِشَرِيكِهِ الَّذِي أَشْرَكَ بِهِ ، أَنَا عَنْهُ غَنِيٌّ " . قُلْتُ : عِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ طَرَفٌ مِنْهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عامر بن عبداللہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : میں اپنے والد کے پاس آیا ، انہوں نے مجھ سے دریافت کیا : تم کہاں تھے ؟ میں نے جواب دیا : میں نے کچھ لوگوں کو پایا ہے ، میں نے ان سے بہتر لوگ نہیں دیکھے ، وہ لوگ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں ، یہاں تک کہ ان میں سے کسی کے جسم پر یوں کپکپی طاری ہوتی ہے کہ یوں لگتا ہے ، جیسے اللہ کے خوف کی وجہ سے اُس پر بیہوشی طاری ہو جائے گی ، میں ان لوگوں کے ساتھ بیٹھ گیا ، میرے والد نے فرمایا : اب کے بعد تم ان کے ساتھ نہ بیٹھنا ، پھر انہوں نے مجھے ملاحظہ کیا اور انہیں محسوس ہوا کہ شاید میں نے ان کی بات کو توجہ نہیں دی ، تو انہوں نے فرمایا : ” میں نے سیدنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے دیکھا ہے ، میں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے دیکھا ہے ، لیکن ان کی اس طرح کی صورتحال نہیں ہوتی تھی ، تو کیا تم یہ سمجھتے ہو ؟ کہ یہ لوگ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں ؟ راوی بیان کرتے ہیں : جب میں نے جائزہ لیا تو ایسا ہی تھا ، تو میں نے انہیں چھوڑ دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مصعب بن ثابت ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17651
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7139)»
حدیث نمبر: 17652
وَعَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - يَقُولُ : أَنَا خَيْرُ شَرِيكٍ ، فَمَنْ أَشْرَكَ مَعِيَ شَرِيكًا فَهُوَ لِشَرِيكِي . يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، أَخْلِصُوا أَعْمَالَكُمْ لِلَّهِ ; فَإِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - لَا يَقْبَلُ مِنَ الْأَعْمَالِ إِلَّا مَا خَلَصَ لَهُ ، وَلَا تَقُولُوا : هَذَا لِلَّهِ وَلِلرَّحِمِ ; فَإِنَّهَا لِلرَّحِمِ وَلَيْسَ لِلَّهِ مِنْهَا شَيْءٌ ، وَلَا تَقُولُوا : هَذَا لِلَّهِ وَلِوُجُوهِكُمْ ; فَإِنَّهَا لِوُجُوهِكُمْ وَلَيْسَ لِلَّهِ فِيهَا شَيْءٌ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ : إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُجَشِّرٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے : ” میں “ سب سے بہتر شراکت دار ہوں ، جو شخص کسی کو میرا شریک ٹھہراتا ہے ، تو وہ عمل میرے شریک کے لئے ہو گا ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) اے لوگو ! عمل کو اللہ تعالیٰ کیلئے خالص کرو ! کیونکہ اللہ تعالیٰ صرف انہی اعمال کو قبول کرتا ہے ، جو اس کے لئے خالص ہوں ، اور تم یہ نہ کہو : کہ یہ اللہ تعالیٰ کے لیے اور رشتہ داری کے تعلق کے لیے ہے ، کیونکہ وہ رشتہ داری کے تعلق کے لیے شمار ہو گا ، اس میں سے اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی چیز نہیں ہو گی ، اور تم یہ نہ کہو : کہ یہ اللہ تعالیٰ کے لیے اور تم لوگوں کے لیے ہے ، کیونکہ وہ تم لوگوں کے لیے شمار ہو گا ، اس میں اللہ تعالیٰ کے لئے کچھ نہیں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد ابراہیم بن مجشر سے نقل کی ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17652
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3567)»
حدیث نمبر: 17653
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَحْسَنَ الصَّلَاةَ حَيْثُ يَرَاهُ النَّاسُ ، وَأَسَاءَهَا حَيْثُ يَخْلُو فَتِلْكَ اسْتِهَانَةٌ اسْتَهَانَ بِهَا رَبَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُسْلِمٍ الْهَجَرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اس وقت اچھی طرح نماز ادا کرے ، جب لوگ اسے دیکھ رہے ہوں اور اس وقت بری طرح نماز ادا کرے ، جب وہ تنہا ہو ، تو یہ توہین ہے ، اس کے ذریعے وہ اپنے پروردگار کی توہین کا مرتکب ہو گا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن مسلم ہجری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17653
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «آخر به ابو يعلى فى المسند (5117)»
حدیث نمبر: 17654
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يُجَاءُ بِابْنِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُ بَذَجٌ - وَرُبَّمَا قَالَ : - كَأَنَّهُ حَمَلٌ ، يَقُولُ : يَا ابْنَ آدَمَ ، أَنَا خَيْرُ قَسِيمٍ ، انْظُرْ إِلَى عَمَلِكَ الَّذِي عَمِلْتَهُ لِي ، فَأَنَا أَجْزِيكَ بِهِ ، وَانْظُرْ إِلَى عَمَلِكَ الَّذِي عَمِلْتَهُ لِغَيْرِي فَيُجَازِيكَ عَلَى الَّذِي عَمِلْتَ لَهُ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُدَلِّسُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن ابن آدم کو لایا جائے گا ، یوں جیسے وہ ” بذج“ ہو ( بعض اوقات راوی یہ لفظ نقل کرتے ہیں : ) جیسے وہ ” حمل“ ہو ( دونوں الفاظ کا مطلب بوجھ یا سامان ہے ) پروردگار فرمائے گا : اے ابن آدم ! میں بہترین حصہ دار ہوں ، تم اپنے اس عمل کا جائزہ لو ! جو تم نے میرے لئے کیا ، میں تمہیں اس کا بدلہ دے دوں گا ، اور تم اپنے اس عمل کا جائزہ لو ، جو تم نے میرے غیر کے لیے کیا تھا ، تو وہ تمہیں اس کا بدلہ دے گا ، جو عمل تم نے اس کے لئے کیا تھا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں مدلس راوی ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17654
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (4121)»
حدیث نمبر: 17655
وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ : كُنَّا نَعُدُّ الرِّيَاءَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الشِّرْكَ الْأَكْبَرَ . قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِي الرِّيَاءِ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ غَيْرُ هَذَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ . وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ يَعْلَى بْنِ شَدَّادٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ، ہم ریاکاری کو بڑا شرک شمار کرتے تھے ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے ریاکاری کے بارے میں ایک حدیث مذکور ہے ، جسے امام ابن ماجہ نے نقل کیا ہے اور وہ اس روایت کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” چھوٹا شرک“ ۔ ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف یعلیٰ بن شداد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17655
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3565) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (198) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير 7160»
حدیث نمبر: 17656
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا كَانَ آخِرُ الزَّمَانِ صَارَتْ أُمَّتِي ثَلَاثَ فِرَقٍ : فِرْقَةٌ تَعْبُدُ اللَّهَ خَالِصًا ، وَفِرْقَةٌ تَعْبُدُ اللَّهَ رِيَاءً ، وَفِرْقَةٌ يَعْبُدُونَ اللَّهَ لِيَسْتَأْكِلُوا بِهِ النَّاسَ " . قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَهُوَ بِتَمَامِهِ فِي كِتَابِ الْبَعْثِ فِي الْحِسَابِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْعَطَّارُ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب آخری زمانہ آئے گا ، تو میری امت تین گروہوں میں تقسیم ہو جائے گی ، ایک گروہ خالص طور پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے گا ، ایک گروہ ریاکاری کے طور پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے گا ، اور ایک گروہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس لیے کرے گا ، تاکہ اس کے ذریعے لوگوں کا ( مال ) کھائے ۔ “ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو دوبارہ زندہ کیے جانے سے متعلق کتاب میں ، حساب سے متعلق باب میں ، مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبید بن اسحاق عطار ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17656
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4301)»
حدیث نمبر: 17657
وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمُ الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ ؟ قَالَ : " الرِّيَاءُ . يُقَالُ لِمَنْ يَفْعَلُ ذَلِكَ إِذَا جَاءَ النَّاسُ بِأَعْمَالِهِمْ : اذْهَبُوا إِلَى الَّذِينَ كُنْتُمْ تُرَاؤُونَ فَاطْلُبُوا ذَلِكَ عِنْدَهُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَبِيبِ بْنِ خَالِدٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تم لوگوں کے بارے میں ، مجھے سب سے زیادہ اندیشہ چھوٹے شرک کے حوالے سے ہے ، لوگوں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! چھوٹے شرک سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ریاکاری ، جو شخص ایسا کرے گا ، جب لوگ اپنے اعمال لے کے آئیں گے ، تو اس سے کہا: جائے گا : تم ان کی طرف چلے جاؤ ، جن کے لیے تم دکھاوا کیا کرتے تھے اور ان کا اجر ان سے طلب کرو ! “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن شبیب بن خالد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17657
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 17658
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ فِي جَهَنَّمَ لَوَادِيًا تَسْتَعِيذُ جَهَنَّمُ مِنْ ذَلِكَ الْوَادِي فِي كُلِّ يَوْمٍ أَرْبَعَمِائَةِ مَرَّةٍ ، أُعِدَّ ذَلِكَ الْوَادِي لِلْمُرَائِينَ مِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِحَامِلِ كِتَابِ اللَّهِ ، وَالْمُتَصَدِّقِينَ فِي غَيْرِ ذَاتِ اللَّهِ ، وَالْحَاجِّ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ ، وَالْخَارِجِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ : يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدَوَيْهِ ، عَنْ أَبِيهِ وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جہنم میں ایک وادی ہے ، جہنم بھی روزانہ چار سو مرتبہ اس وادی سے پناہ مانگتی ہے ، وہ وادی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سے تعلق رکھنے والے ، دکھاوا کرنے والے لوگوں کے لئے بنائی گئی ہے ، جو اللہ تعالیٰ کے غیر کے لئے ، اللہ کی کتاب کا علم حاصل کرتے ہیں ( یا اللہ تعالیٰ کے غیر کے لیے ) صدقہ کرتے ہیں ، بیت اللہ کا حج کرتے ہیں ، اور ( غیر کے لیے ) اللہ کی راہ میں نکلتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد یحیی بن عبداللہ بن عبدویہ کے حوالے سے ، ان کے والد سے نقل کی ہے اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17658
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (128093) اخرجه احمد فى المسند (6509)»
حدیث نمبر: 17659
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الدُّنْيَا مَلْعُونَةٌ مَلْعُونٌ مَا فِيهَا ، إِلَّا مَا ابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ خِدَاشُ بْنُ الْمُهَاجِرِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” دنیا ملعون ہے اور اس میں موجود ہر چیز ملعون ہے ، البتہ اس کا معاملہ مختلف ہے ، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی کوشش کی جائے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خداش بن مہاجر ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17659
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 17660
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ : حَدَّثَنِي شَيْخٌ يُكَنَّى أَبَا يَزِيدَ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنِ ابْنِ آدَمَ مَجْرَى الدَّمِ وَالرُّوحِ ، فَبَكَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو وَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ سَمَّعَ النَّاسَ بِعَمَلِهِ ، سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ سَامِعَ خَلْقِهِ ، وَصَغَّرَهُ ، وَحَقَّرَهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَاللَّفْظُ لَهُ ، وَالْأَوْسَطُ بِنَحْوِهِ وَقَالَ : " سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ سَامِعَ خَلْقِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ بِاخْتِصَارِ قَوْلِ ابْنِ عُمَرَ ، وَقَالَ فِيهِ : فَذَرَفَتْ عَيْنَا عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ . وَسَمَّى الطَّبَرَانِيُّ الرَّجُلَ ، وَهُوَ خَيْثَمَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، فَبِهَذَا الِاعْتِبَارِ رِجَالُ أَحْمَدَ ، وَأَحَدُ أَسَانِيدِ الطَّبَرَانِيِّ فِي الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عمرو بن مرہ بیان کرتے ہیں : ایک بزرگ نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے ، اُن بزرگ کی کنیت ابویزید تھی ، وہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، اسی دوران یہ بات چل نکلی کہ شیطان انسان کی خون کی رگوں میں اور روح کی جگہ ( یعنی پورے وجود میں ) دوڑتا ہے ، تو سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ رو پڑے اور انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص اپنے عمل کے حوالے سے لوگوں کے سامنے شہرت کا طلبگار ہو گا ، اللہ تعالیٰ اس کی شہرت کی خواہش کو ظاہر کر دے گا اور اسے چھوٹا اور حقیر بنا دے گا ۔ “ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، روایت کے لیے الفاظ ان کی نقل کردہ ہیں ، انہوں نے معجم اوسط میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے اور اس میں یہ الفاظ ہیں : ” قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی شہرت کی خواہش کو اپنی مخلوق کے سامنے ظاہر کر دے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے قول کے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اور اس میں انہوں نے یہ بات بیان کی ہے : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ۔ امام طبرانی نے اس بزرگ کا نام بیان کیا ہے ، ان کا نام خیثمہ بن عبدالرحمن ہے ، اس بنیاد پر امام أحمد کے رجال اور امام طبرانی کی معجم کبیر میں اسانید میں سے ، ایک سند کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17660
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ رجال
حدیث نمبر: 17661
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ سَمَّعَ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ ، وَمَنْ رَاءَى رَاءَى اللَّهُ بِهِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَأَسَانِيدُهُمْ حَسَنَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص شہرت چاہے گا ، اللہ تعالیٰ اس کی شہرت کی خواہش کو ظاہر کر دے گا اور جو شخص دکھاوا کرے گا ، اللہ تعالیٰ اس کے دکھاوے کی خواہش کو ظاہر کر دے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے ، امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان کی اسانید حسن ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17661
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3563) اخرجه احمد فى المسند (45/5)»
حدیث نمبر: 17662
وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ قَامَ مَقَامَ رِيَاءٍ رَاءَى اللَّهُ بِهِ ، وَمَنْ قَامَ مَقَامَ سُمْعَةٍ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص ریاکاری کے مقام پر کھڑا ہو گا ، اللہ تعالیٰ اس کی ریاکاری کو ظاہر کر دے گا اور جو شخص شہرت کے مقام پر کھڑا ہو گا ، اللہ تعالیٰ اس کی شہرت کی خواہش کو ظاہر کر دے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17662
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (56/18)»
حدیث نمبر: 17663
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا مِنْ عَبْدٍ يَقُومُ فِي الدُّنْيَا مَقَامَ سُمْعَةٍ وَرِيَاءٍ إِلَّا سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ عَلَى رُؤُوسِ الْخَلَائِقِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو بندہ دنیا میں شہرت اور دکھاوے کے مقام پر کھڑا ہو گا ، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ساری مخلوق کے سامنے اُس کی اس چیز کو ظاہر کر دے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17663
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3571) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (119/20)»
حدیث نمبر: 17664
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ الْخُزَاعِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ قَامَ رِيَاءً وَسُمْعَةً ; فَإِنَّهُ فِي مَقْتِ اللَّهِ حَتَّى يَجْلِسَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ عِيَاضٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن قیس خزاعی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص دکھاوے اور شہرت کے مقام پر کھڑا ہو گا ، وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی میں رہے گا ، جب تک وہ بیٹھ نہیں جاتا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عیاض ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17664
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 17665
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : مَنْ سَمَّعَ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ ، وَمَنْ رَاءَى رَاءَى اللَّهُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَمَنْ تَخَشَّعَ لِلَّهِ تَوَاضُعًا رَفَعَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مَوْقُوفًا مِنْ طَرِيقِ أَبِي رَزِينٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” جو شخص شہرت کا طلبگار ہو گا ، اللہ تعالیٰ ( قیامت کے دن ) اس کی شہرت کی خواہش کو ظاہر کر دے گا اور جو شخص دکھاوا کرے گا ، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے دکھاوے کو ظاہر کر دے گا ، اور جو شخص تواضع اختیار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے لیے خشوع اختیار کرے گا ، اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن سربلندی نصیب کرے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے ” موقوف “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، جو ابورزین نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے اور میں اس ( یعنی ابورزین ) سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17665
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8751)»
حدیث نمبر: 17666
وَعَنْ أَبِي هِنْدٍ الدَّارِيِّ : أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ قَامَ مَقَامَ رِيَاءٍ وَسُمْعَةٍ ; رَاءَى اللَّهُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَسَمَّعَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ قَامَ بِأَخِيهِ مَقَامَ رِيَاءٍ وَسُمْعَةٍ أَقَامَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَسَمَّعَ بِهِ " . ¤ وَ الطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ، وَالْبَزَّارُ ، وَأَحَدُ أَسَانِيدِ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہند داری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص ریاکاری اور شہرت کے مقام پر کھڑا ہو گا ، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی ریاکاری اور شہرت کی خواہش کو ظاہر کر دے گا ۔ “ یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” جو شخص اپنے بھائی کو ریاکاری اور شہرت کی جگہ پر کھڑا کرے گا ، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے کھڑا کرے گا اور اس کی شہرت کی خواہش کو ظاہر کر دے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، امام أحمد اور امام بزار کے رجال اور امام طبرانی کی مختلف اسانید میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17666
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3564) اخرجه احمد فى المسند (270/5)»
حدیث نمبر: 17667
وَعَنْ أَبِي هِنْدٍ الدَّارِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ رَاءَى بِاللَّهِ لِغَيْرِ اللَّهِ فَقَدْ بَرِئَ مِنْهُ اللَّهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہند داری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص اللہ تعالیٰ سے متعلق ( عمل کا ) ” غیر اللہ “ کے لئے دکھاوا کرے گا ، وہ اللہ تعالیٰ سے لاتعلق ہو جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں راویوں کی ایک ایسی جماعت ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17667
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (319/22)»