مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزهد— زہد کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الرِّيَاءِ . باب: ریاکاری کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا كَانَ آخِرُ الزَّمَانِ صَارَتْ أُمَّتِي ثَلَاثَ فِرَقٍ : فِرْقَةٌ تَعْبُدُ اللَّهَ خَالِصًا ، وَفِرْقَةٌ تَعْبُدُ اللَّهَ رِيَاءً ، وَفِرْقَةٌ يَعْبُدُونَ اللَّهَ لِيَسْتَأْكِلُوا بِهِ النَّاسَ " . قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَهُوَ بِتَمَامِهِ فِي كِتَابِ الْبَعْثِ فِي الْحِسَابِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْعَطَّارُ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب آخری زمانہ آئے گا ، تو میری امت تین گروہوں میں تقسیم ہو جائے گی ، ایک گروہ خالص طور پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے گا ، ایک گروہ ریاکاری کے طور پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے گا ، اور ایک گروہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس لیے کرے گا ، تاکہ اس کے ذریعے لوگوں کا ( مال ) کھائے ۔ “ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو دوبارہ زندہ کیے جانے سے متعلق کتاب میں ، حساب سے متعلق باب میں ، مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبید بن اسحاق عطار ہے اور وہ متروک ہے ۔